ہمدردی اور ہمدرد

hamdardi-aur-hamdard.jpg

میں کچھ دن پہلے ہی یونی ورسٹی کے امتحانات سے فارغ ہوا تھا۔ رزلٹ کا انتظار تھا۔ مصروف رہنے کے خیال سے ایک کمپیوٹر کے تربیتی ادارے میں بطور انسٹرکٹر کے ملازمت کرلی۔ چونکہ خود بھی نوجوان تھا اس لئے آنے والے نوجوانوں سے جلد ہی د وستی ہو جاتی۔ عُمروں کا فرق زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے پڑھائی کے علاوہ دوسرا وقت خوش گپییوں میں گزارتا۔

نئے کورس کا آغاز ہوا تو جن لوگوں نے داخلہ لیا ان میں کئی اور لڑکیوں کے علاوہ روبی نام کی ایک لڑکی بھی شامل تھی۔اس کی نئے ماڈل کی کار اور لباس کی جدید تراش خراش دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ اُس کا تعلق کسی اعلیٰ خاندان سے ہے ۔ عمر کوئی اُنیس ، بیس سال ہوگی ۔ افسوس کی بات اسکا انتہائی کوتاہ قد اور چہرے اور جسم کے خدوخال کا قدرے مختلف اور غیر متوازن ہونا تھا۔ آواز بھی قدرے مختلف سی تھی۔ اس کمی کا اندازہ اُسکی شخصیت سے بخوبی لگایا جا سکتا تھا۔ وہ شد ید احساس کمتری کا شکار نظر آتی تھی۔ ہر وقت کھوئی کھوئی رہتی۔ بہت کم بولتی۔ لیکچر ختم ہونے کے بعد کمپیوٹر لیب میں بیٹھ کر اپنا کام کرتی رہتی ۔ کسی مشکل کا شکار ہونے پر میری مدد لے لیتی۔ اسکی اس معذوری یا جسمانی کمی کی وجہ سے مجھے اُس سی گہری ہمدردی محسوس ہوتی۔ میری کوشش ہوتی کہ میں گاہے بہ گاہے اُس سے بات کر کے اُسکا اعتماد بحال کروں تاکہ وہ کچھ حد تک ہی سہی ، نارمل زندگی گذارنے لگے۔

اُس دن وہ معمول سے زیادہ خاموش تھی۔ چہرے سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ رو کر آئی ہے۔ میرے پوچھنے پر اُس کے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے اور آُنسووں کا سیلاب اُسکی اُنکھوں سے بہہ نکلا۔ تھوڑی دیر تک وہ روتی رہی ، پھر جب اس کے دل کا غُبار آنسووں میں نکل گیا تو اس نے اپنی سہمی ہوئی بچکانہ سی آواز میں بتا یا کہ” میری چھوٹی بہن کا رشتہ طے ہو گیا ہے اور گھر میں اُسکی شادی کی تیاری ہو رہی ہے۔ سب مجھ سے بہت مختلف پرتاو کرتے ہیں۔ باہر جاوں تو لوگ گھور گھور کر دیکھتے ہیں۔ گھر کے لوگوں کو بھی میرے متعلق سوچنے کی فرصت نہیں ہے۔ ۔اگلے مہنیے میں پورے اُنیس سال کی ہو جاوگی مگر سب مجھ سےایک بچّے کا سا سلوک کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” اپنی بات ختم کرتے ہوئے وہ ایک بار پھر ہچکیوں سے رونے لگی۔ میں نے اُسے ٹشوپیپر تھمایا اور تسّلی دیتے ہوِئے اُسے سمجھایا کہ تم کسی طرح اوروں سے مختلف یا الگ نہیں ہو ۔تمہارے سارے اعضا سلامت ہیں۔ تم بھی عام لوگوں کی طرح دیکھ سکتی ہو، بول سکتی ہو، سُن سکتی ہو ۔ پڑھ لکھ سکتی ہو، زندگی کے معمولات کو آُسی طرح انجام دے سکتی ہو جس طرح باقی لوگ دیتے ہیں۔ تمیں خود اپنے منفی رویے کو بدلنا ہوگا۔ اپنے مُتعلق مثبت انداز سے سوچنا ہوگا۔ ندگی کی تمام خوشیاں تمہارے لئے بھی اس طرح ہیں جس طرح کسی اور کے لئے۔

میرے سمجھانے کا اُس پر خاطرخواہ اثر ہوا اور وہ پُرسکون ہو گئی۔ اُس کی آنکھوں میں جھلملاتے آمید کے ستارے صاف دیکھے جا سکتے تھے۔ اُسے مطمِئن دیکھ کر میں بھی پرسکون ہو گیا ، وہ میرا شکریہ ادا کر کے اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔

روبی اب پہلے سے بہتر اور قدرے با اعتماد نظر آتی تھی۔ پڑھائی میں اُسکی دلچسپی بھی پہلے سے بڑھ گئی تھی۔ ایک روز کلا س سے فارغ ہو کر میں اپنے نوٹس اور کتابیں سمیٹ رہا تھا ۔ آخری پیریڈ ہونے کی وجہ سے میں قدرے تھکا ہوا تھا اور جلد از جلد گھر جا نا چاہتا تھا۔ کلاس کے تقریبا خالی ہوچکی تھی ۔ دفعتا روبی میری طرف بڑھی۔ “سر ، پلیز میرا کام چیک کر دیجیے گا۔” اُس نے اپنی نوٹ بک میری جانب بڑھاتے ہوے کہا۔ میں نے جلدی سے گھڑی دیکھتے ہوئے نوٹ بک اُس کے ہاتھ سے لی اور اگلے دن واپس کرنے کا وعدہ کرکے کلاس سے باہر نکل اُیا۔

دوسرے دن کلاس سے تھوڑی دِیر پہلے ، مجھے روبی کی نوٹ بک، شیلف میں پڑی نظر اُئی، جلدی سے چیک کرنے کی نیت سے اُٹھا یا تو ایک صفحہ نوٹ بک سے سرک کر نیچے گر پڑا، میں نے صفحے کو اُٹھا یا تو نظر تحریر پر پڑی۔ لکھا تھا ” سر ۔۔۔۔ اُپ کی ہمدردی اور دل جوئی نے مجھے زندگی سے پیار کرنا سکھادیا۔ آپ نے مجھے مایوسی کے گہرے اندھیرے سے نکالا ہے ، پہلی بار مجھے زندگی اتنی خوبصورت محسوس ہوئی ہے۔ میں اُپ کے ساتھ مل کر زندگی کو جینا چاہتی ہوں،اپنے حصّے کی خوشیاں پانا چاہتی ہوں۔ اُمید کرتی ہوں کہ آپ مجھے مایوس نہیں کریں گے۔ جواب کی منتظر ، روبی”

خط پڑھ کر میرے ہاتھ کانپ رہے تھے اور زمین پاّوں کے نیچے سے سرکتی محسوس ہورہی تھی ۔ میرے ماتھے پر پسینے کی بوندیں تمودار ہوچکی تھیں۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ روبی سے ہمدردی کا یہ نتیجہ نکلےگا۔ میں دل ہی دل میں خود کو کوس رہا تھا ۔ ایک بات تو طے تھی کہ ہم لوگ روبی جیسے لوگوں کو صرف جھوٹی تسلیّاں ہی دے سکتے ہیں اسکے علاوہ ہمارے پاس ایسے لوگوں کو دینے کے لیے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔ مجھے ندامت کے ساتھ ساتھ اپنا قد روبی کے قد سے بھی چھُوٹا محسوس ہوا۔ میں نے اپنی کتابیں اُٹھائیں اور تھوڑی ہی دیر میں ، میرے قدم کلا س روم کی طرف نہیں بلکہ خارجی دروازے کی سمت بڑھ رہے تھے۔

سحر امتیاز

سحر امتیاز اُردو صفحہ کے مصنفہ ہیں، اور معاشرے کے مختلف پہلو پر لکھتی ہیں،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top