حاجی ٹیوٹا کرولا اور شیخ پراڈو

for-web.jpg

نام تو ان کا حاجی ربنواز ہے اور اسم بامسمیٰ انہیں رب نے خوب نواز بھی رکھا ہے۔ جب ہم چھوٹے تھے تو اس وقت چھیاسی کرولا اشرافیہ کا ماڈل سمجھا جاتا تھا ، حاجی صاحب ہمارے محلے میں پہلے صاحب حیثیت شخص تھے جن کے گھر کی گیراج میں دو ٹیوٹا کرولائیں ( اردو کی بے حرمتی پر معذرت لیکن کرولائیں لکھنے میں اچھا لگ رہا تھا) کھڑی ہوا کرتی تھیں۔ اسی مناسبت سے ہم سہراب سائیکلیوں نے مارے سڑن کے انہیں حاجی ٹیوٹا کرولا کا لقب دے دیا جو بعد میں زبان زدعام ہوگیا ۔ حاجی صاحب اس وقت کروڑ پتی سے کچھ اوپر ہیں۔ چھے حج اور ان گنت عمرے ادا کرچکے ہیں۔ حاجی صاحب نے اپنے چھوٹے بیٹے جو تازہ تازہ ایف آئی اے میں انسپکٹر بھرتی ہوئے ہیں، کی نسبت تین گلیاں چھوڑ کر شیخ پراڈو کی منجھلی بیٹی کے ساتھ طے کی ہے جو خیر سے ڈاکٹرنی ہے
شیخ سیب کو پراڈو سے وہی نسبت ہے جو حاجی سیب کو کرولا سے تھی۔
کل افطار کے بعد رات گئے تک گھر والوں سے گپ شپ کا سلسلہ چلا تو معلوم ہوا کہ حاجی سیب نے شیخ سیب کی بیٹی کو جو عیدی بھیجی ہے اس میں خالی عید کا ڈریس ساٹھ ہزار کا ہے ، اس کے علاوہ چاندی کا سیٹ اور دیگر لوازمات ہمراہ بیس ہزار نقد ملا کر ڈیڑھ لاکھ روپے خرچ کئے گئے ہیں جس کا محلے بھر کے بھوکے ننگوں (ہمیں شامل کرکے) میں خوب چرچا ہورہا ہے۔
آج فجر کی نماز پڑھنے محلے کی مسجد میں جانا نصیب ہوا ۔ مسجد علاقے کے مخیر حضرات کی ذاتی کرم نوازیوں کے طفیل معرض وجود میں آئی ، اس وقت مسجد کے جو منتظمین ہیں ان میں خیر سے حاجی ٹیوٹا کرولا اور شیخ پراڈو دونوں شامل ہیں۔ مسجد واسطے انتہائی کڑے انٹرویو سیشن کے بعد جو قاری صاحب رکھے گئے ہیں ۔ ان کی تنخواہ حاتم طائی کی قبر کی داہنی سائیڈ پر لات مارتے ہوئے منتظمین نے مبلغ بارہ ہزار روپلی مقرر کی ہے۔ قاری صاحب کی تین عدد بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں، اور ماشااللہ ایک کو چھوڑ کر چاروں سرکاری سکول میں دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ قرآن و ناظرہ کی تعلیم بھی حاصل کررہے ہیں۔
نماز بعد ہمراہ ہمسائے چہل قدمی کرتے اس نے بتایا کہ عید کے پیش نظر قاری صاحب نے مسجد منتظمین سے ایک ماہ کی تنخواہ بطور قرضہ لینے کی زبانی درخواست گزار کی تھی جو مذکورہ حاجی ٹیوٹاکرولا سیب نے بےاعتنائی سے رد کردی جنہوں نے دو دن قبل ہی اپنی ڈاکٹرنی بہو پر سرمایہ کاری کرتے ہوئے ڈیڑھ لاکھ روپے ان کی عیدی پر پھونک دیئے۔
دوست نے مزید بتایا کہ قاری صاحب کو اس نے عید کے ضروریات کے پیش نظر پیسے دینے چاہے تو اس خود دار آدمی نے خاصی ردو قدح کے بعد اس شرط پر قبول کیا کہ یہ قرض ہے اور وہ ہر ماہ تھوڑا تھوڑا کرکے لوٹادے گا۔
چند دن قبل قاری حنیف ڈار صاحب کی ایک پوسٹ نظر سے گزری تھی کہ اپنی زکوت اور فطرانہ وغیرہ امام مسجد کو دیں کیونکہ وہ علاقے میں رہائش پذیر مجبور ومفلوک الحال لوگوں سے آگاہ ہوتا ہے۔ خیال آیا کہ امام مسجد کے اپنے گھر میں کیا چل رہا ہے ، اس بارے میں توجہ بھی توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔
ہم نے اپنی مساجد کے انتظام و انصرام جن الحاج اور شیوخ کے حوالے کررکھے ہیں، کبھی سوچنا بھی گوارا نہیں کیا کہ ان کی چمکتی داڑھیوں اور سفید ریش بالوں کی لٹوں کے عقب میں کس قسم کی کٹھور فسطائیت ہچکولے کھائے بیٹھی ہے
آپ کی مسجد کا مولوی آپ کا بھائی ہے ، وہ آپ کی خیرات یا مدد کا مستحق نہیں ہے۔ اسے عید کی خوشیاں اپنے اہل خانہ کے ساتھ منانے کا اتنا ہی حق ہے جتنا اللہ پاک نے آپ کو دے رکھا ہے۔ اپنی گلی کے چند دروازے کھٹکھٹانے اور دو گھنٹے صرف کرنے کے بعد الحمد اللہ اتنے پیسے جمع ہوگئے ہیں جن سے نہ صرف امام مسجد بلکہ مزید ایک ضرورت مند کی عید کی خوشیاں دوبالا کرنے کی گنجائش نکل آئی ہے۔
آپ سب دوستوں سے بھی التماس ہے کہ جس شخص کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ، اس سے دوستی پیدا کریں اور اسکے حالات سے آگہی رکھیں۔ اگر آپ کے بچے برانڈڈ ڈریسز زیب تن کرتے ہیں اور آپ کی مسجد کے مولوی کے بچے اسلئے عید کی خوشیاں منانے سے محروم رہ جائیں کہ کسی حاجی ٹیوٹا کرولا کے مخصوص ایام چل رہے تھے تو اس کا بار آپ کی گردن پر بھی ہوگا۔
خیرات و صدقہ ضرور دیجئے لیکن جو خود دار اور غیرت مند ہوں انہیں قرض حسنہ دینے کی عادت کو فروغ دیں۔
ہر عروج کو زوال اور ہر زوال کو عروج ہے۔ برا وقت کسی پر بھی آسکتا ہے۔ اس رمضان میں کسی ضرورت مند کی مدد کیجئے اور اللہ میاں کے پاس خود کو رجسٹر کروالیجئے تاکہ آپ کی آزمائش کے وقت میں اللہ پاک آپ کو اس اکاونٹ سے منافع سمیت ادائیگی کریں۔

ابوعلیحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

One thought on “حاجی ٹیوٹا کرولا اور شیخ پراڈو”

  1. Ahmad Junaid Ali says:

    خوبصورت پوسٹ، اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top