غالب منٹو کی طوائف کی روشنی میں

Ghalib-mantoo-ki-tawaif-ki-roshni-min.jpg

غالب کی شاعری ایسی ہے کہ زندگی کے تقریباً ہر شعبے سے تعلق رکھنے والا شخص اس سے اپنے مطلب کا کوئی نہ کوئی شعر نکال ہی لیتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی بات ان کی زندگی پر بھی صادق آتی ہے، چنانچہ ان پر جو فلمیں اور ڈرامے بنے ان کے بنانے والوں نے غالب کی زندگی میں اپنا ہی رنگ دیکھا۔
غالب پر فلم بنانے کا خیال سب سے پہلے سعادت حسن منٹو کو آیا۔ یہ بات ہے 1941 کی جب وہ ان دنوں فلمی دنیا سے وابستہ نہیں ہوئے تھے بلکہ دہلی میں آل انڈیا ریڈیو میں کام کر رہے تھے۔
وہ احمد ندیم قاسمی کو ایک خط میں لکھتے ہیں:
‘میں آج کل غالب پر فلمی افسانہ لکھنے کے سلسلے میں بہت مصروف ہوں۔ خدا جانے کیا کیا خرافات پڑھ رہا ہوں۔ سب کتابیں منگوا لی ہیں۔ کام کی ایک بھی نہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارے سوانح نگارسوانح لکھتے ہیں یا لطیفے۔۔۔ کچھ مواد میں نے جمع کر لیا ہے اور کچھ ابھی جمع کرنا ہے۔’

وہ کون سی بات تھی جو منٹو غالب کی سوانح میں ڈھونڈنا چاہتے تھے لیکن وہ انھیں ملتی نہیں تھی؟
منٹو بڑے فن کار تھے وہ جانتے تھے کہ فکشن کسی بڑی آویزش یا کنفلکٹ کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ لیکن غالب کی زندگی میں کیا آویزش دکھائی جائے؟
غالب کے بارے میں سوانح نگاروں کی ‘خرافات’ پڑھتے پڑھتے منٹو کو کہیں ‘ستم پیشہ ڈومنی’ کا فقرہ ملا۔ قیاس کہتا ہے کہ اسے پڑھ کر بمبیا زبان میں ‘منٹو کے دماغ کی بتی’ جل گئی۔ جب انھیں یہ کھونٹی مل گئی تو اس پر بقیہ فلمی سکرپٹ ٹانگنا منٹو کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔
غالب اور اس ڈومنی کے قصے کی حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک خط میں اپنے دوست مرزا حاتم علی بیگ مہر کو ان کی محبوبہ کے انتقال پر تسلی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم اس غم میں اکیلے نہیں ہو، میرے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ پیش آ چکا ہے۔یہ واقعہ بڑا مشکوک ہے، اس خط کے علاوہ اس کی کہیں اور شہادت نہیں ملتی، اور یہاں بھی غالب کا مدعا اپنے حالاتِ زندگی بیان کرنا نہیں، محض اپنے دوست کی دلجوئی ہے۔

مرزا غالب کا مزار دلی میں واقع ہے
غالب کو اپنی زندگی کے واقعات گھڑنے میں کچھ عار نہیں ہوتا۔ فارسی کے استاد ملا عبدالصمد اس کی ایک عام مثال ہیں۔ اس لیے کوئی بعید نہیں کہ غالب نے یہ واقعہ بھی خط لکھتے لکھتے تراش لیا ہو۔ لیکن منٹو کے لیے یہی دو فقرے کافی تھے۔
آخر طوائف ہی منٹو کو کیوں ‘ہانٹ’ کرتی ہے؟
وہ خود اپنے موضوعات کے بارے میں لکھتے ہیں: ‘چکی پیسنے والی عورت جو دن بھر کام کرتی ہے اور رات کو اطمینان سے سو جاتی ہے، میرے افسانوں کی ہیروئن نہیں ہو سکتی۔’
چنانچہ منٹو طوائف کے کردار کو آلۂ کار بنا کر بہت فنکاری سے دکھا کر معاشرے کے چہرے سے پردہ چاک کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس میں انھیں خاصی کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔
میرے خیال سے منٹو انسان کی منافقت، لالچ، مکر و فریب، ریاکاری اور سب سے بڑھ کر دھوکہ دہی کے بارے میں لکھنے کے متمنی تھے اور طوائف کے کوٹھے سے بڑھ کر کون سا ایسا مقام ہو سکتا ہے جہاں یہ ساری بدروئیں آپس میں مل کر ایک نالے کی شکل اختیار کر لیتی ہیں؟

غالب پر اس ‘فلمی افسانے’ کا سکرپٹ تو سنہ 42-1941 میں مکمل ہو گیا تھا، لیکن اسے پردۂ سیمیں پر نمودار ہوتے ہوتے 12 برس بیت گئے۔
اس وقت تک منٹو پاکستان آ چکے تھے۔آخر سہراب مودی نے یہ کہانی فلمانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے مکالمے لکھنے کے لیے انھوں نے ایک اور چوٹی کے افسانہ نگار یعنی راجندر سنگھ بیدی کی خدمات حاصل کیں۔
اس فلم میں غالب کا کردار بھارت بھوشن نے ادا کیا، تاہم منٹو کے ‘فلمی افسانے’ کا مرکزی کردار غالب نہیں بلکہ موتی بیگم نامی ایک طوائف ہے جو غالب کی شاعری کی قتیل ہے۔ فلم میں یہ کردار ثریا نے ادا کیا ہے۔ غالب اسے چودھویں بیگم کا خطاب دیتے ہیں۔

کہانی روایتی سی ہے۔ غالب اور چودھویں بیگم کے بیچ میں ایک کوتوال آ جاتا ہے، جو ہر قیمت پر غالب کو مغلوب کرنا چاہتا ہے۔ جہاں تک انجام کا سوال ہے تو وہی ہوا جو غالب نے خط میں لکھا تھا کہ وہ اس ستم پیشہ ڈومنی کو مار کر ہی دم لیتے ہیں اور چودھویں بیگم فلم کے آخر میں ان کی بانھوں میں دم توڑ دیتی ہے۔
البتہ موسیقار غلام محمد نے اس فلم میں غالب کی مشکل شاعری کو جس سہولت اور نغمگی سے فلمی موسیقی کے روپ میں ڈھالا ہے، اس کی نظیر آج تک نہیں ملتی۔ لوگ غلام محمد کو ‘پاکیزہ’ کے نغموں سے زیادہ جانتے ہیں لیکن مرزا غالب ان کی بہترین فلم سمجھی جاتی ہے۔
میرے سامنے منٹو کا اصل سکرپٹ نہیں ہے، اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ منٹو کے سکرپٹ کو سکرین تک پہنچتے پہنچتے کن کن پلوں کے نیچے سے گزرنا پڑا لیکن جو فلم اپنی حتمی شکل میں سامنے آتی ہے، اسے دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ تجربہ بالی وڈ کی عام فارمولا فلموں سے کچھ زیادہ اوپر اٹھنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
فلم باکس آفس پر بھی اوسط کارکردگی کا مظاہرہ ہی کر سکی، البتہ اسے ناقدین نے خوب سراہا اور یہ اُس سال کا فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گئی۔

اس فلم کی فنی کامیابی کو دیکھتے ہوئے 1961 میں پاکستان میں بھی مرزا غالب ہی کے نام سے ایک فلم بنائی گئی۔ اس فلم میں لالہ سدھیر نے غالب کا، جب کہ نور جہاں نے چودھویں بیگم کا کردار ادا کیا۔ یہ فلم اتنی بری طرح سے پِٹ گئی کہ نور جہاں کے بطور ہیروئن کریئر کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی۔
البتہ اس فلم کی ایک سوغات آج بھی زندہ ہے، تصدیق حسین کی موسیقی میں نور جہاں نے ایک غزل ایسی گا دی جو جوشِ قدح سے بزم کو ہمیشہ چراغاں کرتی رہے گی۔

تحریر : ظفر سید ( بی بی سی )

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top