جنیٹک میوری کی حقیقت

16999254_755302717969120_5144819671630986616_n.jpg

ہماری زندگی میں بہت بار ایسا ہوتا ہے ۔ جب ہمیں ایک کام کئی بار کرنے کا احساس ہوتا ہے ۔ حالانکہ ہم وہ کام پہلی بار کررہے ہوتے ہیں۔ہمیں بہت بارکسی اجنبی مقام پر پہلے بھی کئی بارگزرنے کا احساس ہوتا ہے۔ بعض دفعہ ہمیں لگتا ہے ۔جیسے ہمارا ایک عرصہ یہاں گزرا ہو۔لیکن حقیقت میں آپ کیلئے کسی نئے مقام کا ہر منظر نیا ہوتا ہے ۔ ہمیں ہزاروں خیال ہر روز آتے ہیں ۔ لیکن کچھ خیا ل ہمارے ساتھ جنم لیتے ہیں ۔ وہ کچھ دھندلے منظر ہوتے ہیں ۔جنھیں جتنا بھی سوچ لیں ۔ وہ تمام عمر دھندلے ہی رہتے ہیں ۔ اسی کے ساتھ ہماری عمر بیت جاتی ہے ۔ لیکن ان مناظر کا معمہ کبھی حل نہیں ہوتا ہے۔
ایسا کیوں ہوتا ہے ۔ ۔۔؟
میں نے اس کیفیت کو ہر زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس کیفیت کو جاوو وکہتے ہیں ۔ ہندو مذہب میں اس کی تشریح کچھ یوں ہے ۔ ہر وہ منظر اور خیال جو ہمیں خود پر بیتنے کا احساس ہو ۔لیکن حقیقت سے اسکا کوئی تعلق نہ ہو۔ دراصل وہ ہمارے پچھلے جنم کی یاد ہے۔ جو روح کے ساتھ وجود میں سرایت کر جاتی ہے۔اکثر میرا ایک دوست مجھے کہتا ہے کہ میں جب بھی شاہی قلعے میں داخل ہوتا ہوں ۔ مجھے چشم تصور گھوڑوں کی ٹاپ سنائی دیتی ہے۔پھر وہاں ایک بالکونی کے نیچے گھنٹوں کھڑے رہنے کا احساس ہوتا ہے۔ بعض دفعہ مجھے شاہی باغ میں ایک برگد کے بزرگ درخت کا احساس بھی ہوتا ہے۔ حالانکہ وہاں کوئی ایسا درخت نہیں ہے۔
قارئین !دنیا کے تمام معاشروں نے اس نفسیاتی کیفیت پر بات کی ہے۔ لیکن مدلل جواب نہیں مل سکا ۔ آخر سائنس نے اس نقطے پر اپنی ریسرچ کا آغاز کیا ۔ سائنسی ریسرچ کے مطابق بچہ اپنی پیدائش کے ساتھ بہت ساری وراثتی چیزیں جین میں ساتھ لے کرآتا ہے ۔ جس میں ذہانت، بیماری ،نفسیات وغیرہ شامل ہیں ۔لیکن اسی کے ساتھ بچہ جنیٹک میموری کا ایک ذخیرہ بھی ساتھ لیے جنم لیتا ہے۔سوال یہ ہے۔جنیٹک میوری کیا ہوتی ہے۔
قارئین ! ہر وہ منظر جسے ہم دیکھ رہے ہیں ۔ ہر وہ احساس جو ہمیں محسوس ہورہا ہے ۔ وہ ہمارے دماغ کے پچھلے حصے میں محفوظ ہورہا ہے۔ ایک عرصہ بعد دماغ کے مخصوص جینز یاداشت کو چھانٹی کرتے ہیں ۔وہ یاداشت جو نہایت پختہ ہوچکی ہو۔مثلا عادات، ڈیوٹی کے مناظر ، کوئی حادثہ وغیرہ ۔ مینٹل جینز انھیں ڈی این اے میں منتقل کر دیتے ہیں ۔جسم کے دیگر جینز بھی ڈی این اے کی تیاری میں وراثتی طور پر حصہ ڈالتے ہیں ۔ جب ایک بچہ جنم لیتا ہے۔ اسکا جسم کئی وراثتوں سے مل کربنتا ہے۔ اسکا مزاج ،جسمانی ساخت ،انداز زندگی وغیرہ اسکی سابقہ نسل میں کئی افراد سے ملتی ہوتی ہے۔ یوں ایک فرد کے اندر سے گزشتہ سات نسلوں کے کئی لوگ جھانک رہے ہوتے ہیں ۔ چونکہ وہ سات نسلیں زندہ انسان کے جینز میں اپنی وراثت ڈال چکی ہوتی ہیں ۔ اسی وراثت میں جنیٹک میموری کا ایک بڑا حصہ بھی موجود ہوتا ہے ۔ جو جاوو بن کر انسان میں زندہ رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے جب ہمیں ایک کام بار بار کرنے کا احساس ہوتا ہے ۔حالانکہ ہم وہ کام پہلی بار کررہے ہوتے ہیں ۔ درحقیقت ہمارے آباؤاجداد میں وہ کام کسی فرد کا محبوب مشغلہ رہا ہوتا ہے۔ممکن ہے اس کام سے کسی گزشتہ فرد کی اہم یاد وابستہ ہو۔ جو جنیٹک میموری میں چلتی چلتی آپ میں رونما ہوئی ہو۔ کیونکہ جنیٹک میموری کو ظاہر ہونے کیلئے دماغ کا اس پوزیشن میں ہونا ضروری ہے ۔ جس پوزیشن میں اس شخص کا دماغ تھا ۔ جس کی جنیٹک میموری آپ تک پہنچی ہے۔ عام لفظوں میں ایک رحم دل آدمی پر ظالم آدمی کی جیٹک میموری رونما نہیں ہوسکتی ۔کیونکہ دونوں کے مینٹل سیلز الگ الگ انداز میں تحریک پاتے ہیں ۔یہی وجہ ہے ہماری نفسیاتی کیفیت جاوووگزشتہ صدیوں کے کسی ایک انسان کی جنیٹک میموری ہوتی ہے ۔ جو بہت دھندلی اور پرسوچ انداز میں کسی مخصوص وقت میں ظاہر ہوتی ہے۔

تحریر :
ایم عمران ادیب

ایم عمران ادیب

ایم عمران ادیب مصنف ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top