دل مضطرب

dil-mustarab-.jpg

یوں تو ہم نے بہت سے آستین کے سانپ پال رکھے ہیں مگر ان میں اجگر کا درجہ صرف ایک حضرت کو حاصل ہے۔ یہ موصوف اجگر نما خالصتاً اپنے کرتوتوں کے باعث ہیں کہ شکل سے تو بہرحال نیولے لگتے ہیں۔
بہت سے لوگ ان سے ایسے ڈرتے ہیں جیسے بلی سے چوہا حلانکہ یہ خود چوہے سےایسے ہی ڈرتے ہیں جیسے کاکروچ سے لڑکی۔ ۔
بھولے بھالے افراد کو ڈرانا دھمکانا انکا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ اس لحاظ سے انہیں ایم کیو ایم میں ہونا چاہیے۔

ویسے اپنی حرکات کے باعث کئی لوگوں کو انتہائی مطلوب بھی ہیں لیکن چونکہ دوست ہونے کے ناطے ہمیں بھی انکی خیریت نیک مطلوب ہے اسلیے انکا نام پتہ پوچھنے پر ہم یوں لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں گویا انہیں جانتے تک نہیں۔ لیکن امید ہے کہ انکی حرکتیں بہت جلد انہیں نا معلوم افراد تک پہنچا کر دم لیں گی اور کسی دن یہ بھی بوری بند برآمد ہوں گے۔ فی الحال تو ایک بڑی تعداد کی بلاک لسٹ میں پائے جاتے ہیں۔

یہ خود تو پتہ نہیں کچھ ہیک کر سکتے ہیں یا نہیں ہاں البتہ خوبصورت لڑکیاں گاہے بگاہے انکا دماغ ضرور ہائی جیک کیے رکھتی ہیں۔ اوقات کو مد نظر رکھتے ہوئے حالات انکے یہ ہیں کہ پوری تین منگنیاں اور چار سو افیر محض اسلیے ٹوٹ گئے کہ لڑکی نے انہیں گھاس ڈالنا ہی مناسب نہ سمجھا۔

کھانے میں بھنڈی اور جوتے دونوں شوق سے کھاتے ہیں۔ ویسے میٹھے میں خوبصورت لڑکیوں کے منہ سے گالیاں کھانا بھی انہیں بے حد پسند ہے۔

خود کو بے حد ذہین ماننے میں انہیں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی۔ ۔ حالانکہ یہ اتنی ہی بے کار چیز ہیں جیسے جوتے کے ڈبے میں سے جوتے نکال لینے کے بعد بیکار ڈبہ۔

معصوم ادباء ان کو توپ سمجھتے ہیں لیکن یہ چلے ہوئے کارتوس سے بھی زیادہ خالی ڈھکن ہیں۔ اسی لیے اکثر انہیں ابے او ڈھکن کہہ کر بلایا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ خود کو پاکستان کے بڑے ہیکرز میں شمار کرتے ہیں اور کچھ ہیک نہ کر سکنے کی صورت میں سارا الزام انٹرنیٹ پر ڈال دیتے ہیں۔

بچپن سے ہی انہیں کلاس کے باہر کھڑے ہونے کا وسیع تجربہ ہے۔ جیسے تب اپنے کالے کرتوتوں کے باعث کلاس روم سے باہر نکال دیےجاتے تھے ویسے ہی اب کم وبیش ہر فورم سے انکو دیس نکالا مل جاتا ہے۔ جس کا بدلہ یہ ایڈمنز کے الٹے سیدھے نام رکھ کر اتارتے ہیں۔

جانے کس کی شاعری چرا کر شاعر کہلائے پھرتے ہیں۔ نیز الٹی سیدھی تحریر لکھ کر اکثر قاری اور اردو دونوں کی مت مار دیتے ہیں۔

ہونہار بروا کافی کماؤ پوت بھی ہیں۔جس کا ثبوت یہ ہے کہ موصوف بچپن میں شادیوں میں جا کر دلہے کے ہار پر لگے نوٹ چپکے سے اتار کر جیب میں رکھ لیا کرتے تھے.اوپر سے اتنے محنتی ہیں کہ پارٹ ٹائم میں فیک آئی ڈیز کا کاروبار بھی کرتے ہیں۔ درجن بھر آئی ڈیز محض پانچ سو روپے کی سستی قیمت میں بیچنے کو تیار ہیں۔

تقریبات میں جانا انہیں اس قدر پسند ہے کہ تقریبا ہر دوسرے روز اپنی عزت کے جنازے میں نہ صرف بخوشی شامل ہوتے ہیں بلکہ پہلی صف میں محمود و ایاز کے مقابل پائے جاتے ہیں۔

انہیں فلموں میں کام کرنے کا بے حد شوق ہے۔ اور ولن کے چمچے ہونے کا رول کئی دفعہ یہ سوچ کر ٹھکرا چکے ہیں کہ ایسی منحوس شکل تو صرف ہیرو بننے کے لائق ہے ۔ لیکن قوی امید ہے کہ ہیرو بن کر بارش میں گیت فلمبند کرانے کا سپنا آنکھوں میں سجائے ہی یقینا ایک دن آنکھیں بند کر جایئں گے۔

الٹی سیدھی پوسٹس لگانے کیوجہ سے اتنے آسمان کے کریڈٹ پر ستارے نہیں ہیں جتنی انکے کریڈٹ پر معصوم ادباء کی بدعائیں۔
راوی نے جب بھی لکھا۔ ۔ پھول لکھا۔ ۔ خوشبو لکھا۔ محبت لکھا ۔ ۔ چاند لکھا۔ ۔۔ قبول ہوتی دعا لکھا۔ ۔ اڑتی ہوئی ردا لکھا۔ ۔ حسن بے مثال لکھا۔ ۔ غرور کو زوال لکھا۔ ۔ ۔ اور تو اور چین ہی چین لکھا مگر ان پر آ کر قلم کی نوک نے بے چینی کی کیفیت میں ایک چیخ ماری اور فقط ایک لفظ ‘لعنت’ لکھ کر جان دے دی۔

خدا سے انکی ہدایت کی خاص دعا ہے کہ اے اللہ انکے دلِ مضطرب کو قرار آ جائے تاکہ ہمیں بھی دو گھڑیاں سکون نصیب ہو۔
نوٹ: انکی اسپیشل فرمائش ہے کہ پوچھا جائے کہ ایک خاتون نے انہیں بلاک کیوں کیا ہے؟ان خاتون سے گزارش ہے بہت اچھا کیا ہے مت کھولنا۔

فاطمہ عمران

فاطمہ عمران مصنفہ ہیں اور سوشل میڈیا کے مختلف بلاگز پر ان کی تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top