اپنی بہن بیٹیوں کوDatingسے بچائیے!

dating-in-park.jpg

نوجوان لڑکے اور لڑکی کا اپنے والدین کی آنکھوں میں دھول جھونک کر تنہائی میں ملناآج کی جدید اصطلاح میں Dating اور ”ڈیٹ مارنا”کہلاتا ہے۔ ڈیٹنگ کا یہ رُجحان سب سے زیادہ ہمارے تعلیمی اداروں(یونیورسٹی’ کالج’حتیٰ کہ سکول)کے نوجوان اور نوعمر لڑکے لڑکیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ لڑکے اورلڑکیاں گھروں سے اپنے تعلیمی اداروں کے لیے نکلتے ہیں لیکن وہاں جانے کے بجائے اپنے نام نہاد عاشقوں اور محبوباؤں کے ساتھ ڈیٹ مارنے چلے جاتے ہیں اور گھر والوں کو کسی قسم کا کوئی شک تک نہیں ہوتا۔
ڈیٹنگ کے ابتدائی چند دن کسی پارک میں درختوں یاجھاڑیوں کی اوٹ میں گزرتے ہیں جہاں یہ نوجوان جوڑے سرعام بوس وکنارکرتے اور بہت ہی نازیبا حرکات کرتے ہیں۔لاہور میں ڈیٹنگ کے لیے تین پارک سرفہرست ہیں :(۱)باغِ جناح’ (۲)ماڈل ٹاؤن سنٹرل پارک’اور (۳) ریس کورس پارک۔ جب میں ماڈل ٹاؤن پارک گیا تووہاں سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ڈیٹ مارنے آئے ہوئے تھے ‘جبکہ اُن میں سے بعض تو کالج اور سکول کے یونیفارم میں موجودتھے جو اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ یہ لوگ گھروں سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں۔
پارک میں موجود سیکیورٹی گارڈز سے جب میں نے اس بارے میں پوچھا تو اُن میں سے ایک نے بتایا کہ اس پارک کے ٹکٹ کا ٹھیکہ ایک کروڑ سالانہ میں ہوا ہے اور ہمیں سختی سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو بری سے بری حرکات پر بھی نہ روکا جائے۔اس لیے کہ اگر ان جوڑوں کو روکا گیا تو پھر یہاں کون آئے گا۔ایک مالی نے بتایا کہ یہاں ہر روز سینکڑوں کی تعداد میں سکول ‘کالج اور یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ آتے ہیں اور ایسی ایسی گندی حرکتیں کرتے ہیں کہ ہمیں شرم آجاتی ہے مگر وہ بے شرم سر عام اپنے ”پیار” میں مصروف رہتے ہیں۔اُس کا کہنا تھا کہ یہاں جھاڑیوں کی اوٹ میں ہم نے بہت سے جوڑوں کو زنا تک کرتے دیکھا ہے۔ میں نے پوچھا: کیا لڑکیاں منع نہیں کرتیں۔ اُس نے کہا کہ بعض لڑکیاں تو خودلڑکوں کو گندی حرکات پر اُکساتی ہیں’جبکہ بعض نوعمر لڑکیاں پہلے پہل شرم دکھاتی ہیں اور لڑکوں کو ایسی حرکات سے منع کرتی ہیں ‘مگر جولڑکا اُسے اتنی دور سے لے کر آیا اور اس نے اسے کھلایا پلایا ہوتا ہے تو وہ اپنی ہوس پوری کیے بغیر نہیں رہتا۔
ایسا ہی حال باغِ جناح اور ریس کورس پارک میں بھی دیکھنے کوملتاہے۔باغِ جناح میں تو چند ایک پہاڑیاں بھی موجود ہیں جو ڈیٹ پرآئے جوڑوں کے لیے کسی فائیوسٹار ہوٹل کے کمرے سے کم نہیں ہے اس لیے کہ یہاں انہیں مکمل تنہائی میسر آتی ہے اور انہیں کسی کا ڈر نہیں ہوتا۔
ڈیٹنگ کا دوسرا مرحلہ دل دہلا دینے والاہے۔غریب جوڑے اپنے کسی دوست کے گھر کا انتخاب کرتے ہیں جس کے گھر والے کسی تقریب وغیرہ میں گئے ہوتے ہیں’جبکہ امیر زیادہ تر ہوٹلوں اورجابجا موجود پرائیویٹ گیسٹ ہاؤس کا انتخاب کرتے ہیں۔اس طرح ان جوڑوں کو مکمل تنہائی میسر آتی ہے اور پھر یہ جوڑے وہ تعلق قائم کرلیتے ہیں جو میاں بیوی شادی کے بعد قائم کرتے ہیں۔شادی سے پہلے ایسے تعلق قائم کرنے کو ”زنا”سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اسلام میں اس کی سزاسو کوڑے ہیں۔ پاکستانی قانون میں بھی یہ ایک قابل سزا جرم ہے۔
ڈیٹنگ کے ظاہری نقصانات تو سب کے سامنے ہیں’جبکہ اس کا ایک بہت بھیانک نقصان ”بلیک میلنگ ”ہے۔یہ جوڑے جہاں ڈیٹ مارنے جاتے ہیں وہاں کی انتظامیہ خفیہ کیمروں سے اُن کی ویڈیو بنا لیتے ہیں۔اس سے وہ ان کو بلیک میل کرتے ہیں۔لڑکوں سے تو وہ رقم کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ لڑکیوں سے رقم کے ساتھ جنسی تعلقات کی خواہش کا اظہارکرتے ہیں۔اب یہ دونوں پولیس اور اپنے گھر والوں کے ڈر سے ان کے مطالبات ماننے پر مجبور ہوتے ہیں۔
ابھی چند سال پہلے اسلام آباد ‘ کراچی او رپاکستان کے چند ایک اور بڑے شہروں میں انٹر نیٹ کلب کے کیبنوں میں ڈیٹنگ پر آئے ایسے ہی ہزاروں جوڑوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز کے منظر عام پر آنے نے ایک تہلکہ مچا دیاتھا۔کئی لڑکیوں نے اس پر خودکشیاں کیں اور بہت سو کے گھر اُجڑے۔ اسی طرح ابھی پچھلے سال ویلنٹائن ڈے کے موقع پر کراچی کے آئس کریم پارلر پر ڈیٹ پرگئے سینکڑوں کی تعداد میں جوڑوں کی ویڈیوانتظامیہ نے بنا کر انتہائی مہنگے داموں گندی سائٹس کو نہ صرف بیچیں بلکہ اُن جوڑوں کو بلیک میل بھی کیا۔
بلیک میلنگ کادوسرا رخ یہ ہے کہ لڑکے خود سے اپنی محبوبہ کی ویڈیوبنالیتے ہیں۔بعض لڑکے تو یہ ویڈیو گندی سائٹس کو اچھی خاصی رقم کے بدلے بیچ دیتے ہیں اور اس طرح یہ اس لڑکی کی عزت پلک جھپکتے ساری دنیا میں نیلام ہوجاتی ہے۔جبکہ بعض لڑکے ان ویڈیوز سے لڑکیوں کو بلیک میل کرکے رقم بھی بٹورتے ہیں اور اپنی ہوس بھی پوری کرتے رہتے ہیں۔ایسے سینکڑوں واقعات اب تک میڈیا میں رپورٹ ہوچکے ہیں اور رپورٹ نہ ہونے والے واقعات کی تعداد ہزاروں میں ہے۔
اس حوالے سے صرف ایک واقعہ ملاحظ ہو جس کو پڑھ کر شاید آپ کے بھی رونگٹھے کھڑے ہوجائیں گے۔ملتان کے ایک سکول کی نویں جماعت کی طالبہ کی موبائل پر ایک لڑکے سے دوستی ہوگئی۔انہوں نے ڈیٹ پرجانے کا پروگرام بنایا اور ایک پارک میں ملے۔جہاں لڑکے کے دوستوں نے اُن کی ویڈیو بنا لی۔چند دن بعد لڑکے نے ویڈیو دکھا کر اُسے اپنے دوست کے گھر بلاکر اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور اس کی ویڈیوبھی بنا لی۔ کچھ دن بعد لڑکے کا دل جب اُس لڑکی سے بھر گیا تو اُس نے وہ ویڈیو اپنے دوستوں کو دے دی۔پھر اس کے دوستوں نے باری باری اس معصوم لڑکی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔درندگی کی انتہا دیکھئے کہ پندرہ سالہ بچی مسلسل چھ ماہ تک بیس لوگوں کے ہوس کا نشانہ بنتی رہی’لیکن اپنی او راپنے والدین کی عزت کی خاطر چپ چاپ سب سہتی رہی۔ اس کے بعد اُن درندوں نے وہ ویڈیولڑکی کے باپ کو دکھا کر تین لاکھ کا مطالبہ کیا ۔باپ نے پولیس کو اطلاع دی تو اُن میں سے تین ملزمان گرفتارہوگئے۔آپ سوچئے کہ یہ سب صرف ایک بار ڈیٹ مارنے کا نتیجہ ہے اور اب اُس لڑکی اور اس کے گھر والوں کے پاس جینے کا کون سا بہانا باقی ہے۔
ڈیٹنگ کے بے شمار نقصانات ہیں کہ کوئی بھی عقل وفہم رکھنے والا اور دوسروں کی بہن بیٹیوں کو اپنی بہن بیٹی سمجھنے والا انسان سوچ کر بھی کانپ اُٹھتا ہے۔ میری والدین اور بھائیوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی بہن بیٹیوں پر نظر رکھیں’ او رگاہے بگاہے ان کے موبائل کو چیک کرتے رہیں اس لیے کہ ڈیٹنگ کا یہ سارا کھیل موبائل کے سر پر ہی کھیلا جاتا ہے۔
لڑکیوں سے گزارش ہے کہ لڑکوں کی دوستی اور عشق کے چکروں میں آکر ڈیٹنگ پہ جانے کا خیال اپنے دل سے نکال دیں اور ملتان کی لڑکی کے واقعہ کو یاد رکھیں جو ایک ڈیٹ کی وجہ سے بیس لوگوں کے ہوس کا نشانہ بنی۔خدانخواستہ ایسا آپ کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔پھر یہ ضرور یاد رکھیں کہ ڈیٹ مارنے میں سب سے زیادہ نقصان لڑکی کا ہی ہوتا ہے اس لیے کہ اگر بلیک میلنگ نہ بھی ہو تب بھی لڑکی کی عزت اس ڈیٹنگ میں چلی جاتی ہے۔
آخر میں’میری تمام نوجوانوں سے گزارش ہے کہ کسی لڑکی کو اپنے جھوٹے پیار میں پھنسانے’اُسے اپنی ہوس کا نشانہ بنانے’ بلیک میل کرنے یا اُس کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر اَپ لوڈ کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیں کہ کل کوآپ کی بہن’بیٹی کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے۔اس بارے میں ہر ایک کو ضرور سوچنا چاہئے.

آغا سراج

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top