چڑیل

churail.jpg

ہمارے میاؤں سے ہمیں شدید شکایت ہے۔واللہ اس قدر تیز اور گھاک ہیں کہ کبھی پکڑائے ہی نہیں جاتے۔ گو اس چالاکی کو وہ اکثر اپنی شرافت کی سند بنا کر ہمیں پکڑاتے ہیں مگر ہر خاتون کی طرح ہمیں بھی اس گنجی، شاطر اور مکار خاتون کی تلاش ہے جس کا بال آج تک ہم اپنے میاؤں کی شرٹ پر تلاش نہیں کر سکے۔

حد تو یہ ہے کہ جب بھی ہم نے چھاپہ مارا جانے کہاں فورا سارے ثبوت چھپا دیتے ہیں؟ کمپیوٹر کی ہسٹری سے لے کر موبائل تک میں جس دن ہمیں ایک دو شواہد بھی ہمارے مطلب کے مل گئے اس دن سمجھو جیتے جی انکو عمر قید کی سزا سنا ڈالیں گے۔ حالانکہ “دفعہ نکاح ” کے تحت وہ اب بھی خود کو زندانِ زندگی میں قید بامشقت پر ہی سمجھتے ہیں۔
کئی بار ہم نے شیشے میں بال بنانے کے بہانے کن اکھیوں سے عکس میں انکی کمپیوٹر سکرین پر “چاتیاں” ماریں ہیں۔ اور کتنی ہی دفعہ انہیں پکڑنے کیلیے انکی سم سے رشید پلمبر کو ہم نے خود ہی محبت بھرے میسجز کر دیے مگر مجال ہے جو وہ چڑیل بھی کچھ کم چالاک ہو۔ آگے سے ہمیں میسج کر کے کہنے لگی “عمران پائی جان خیریت ہے۔ پابھی جی نوں کرن والے میسج مینوں کر دتے نے”۔

ہمیں تو یہاں تک پورا شک ہے کہ جان کر کبھی کبھی موبائل گھر چھوڑ جاتے ہیں تاکہ ہم اچھی طرح چیکنگ کر کے تسلی کر لیں اور بعد میں یہ کوڈ ورڈ میں میسج کر کے “اسے” بتا دیں کہ مصیبت ٹل گئی ہے اور اب میدان صاف ہے۔
ہائے ہم نے تو موبائل بلز بھی چیک کر کے دیکھ لیے۔ مجال ہے جو کلموہی بیس منٹ سے زیادہ بات کرتی ہو۔ اب آپ کہیں گے کہ ہمیں اتنا یقین کیسے کہ بیس منٹ اسی سے بات کرتے ہیں؟ تو آپ خود بتائیں بھلا
“کچھ چاہیے؟”
“سبزی کون سی لانی ہے؟”
“پیمپرز ختم ہو گئے کیا؟”
“صبح ناشتے کیلیے انڈے بریڈ وغیرہ لانے ہیں کہ نہیں؟”

ان تمام ضروری باتوں میں تو دو سے بھی کم منٹ لگتے ہیں۔ تو اب اس سے بھی زیادہ ایسی کیا ضروری بات ہوتی ہو گی جس میں یہ پورے بیس منٹ تک مصروف رہتے ہیں۔ یہ موئے کلاینٹ کے بہانے جہاں جہاں “جوائینٹ” رہتے ہیں ہمیں سب پتہ ہے ۔ ۔
ایک دن ہمیں کہنے لگے “بیگم سچ کہو کیا تمہارا دل مانتا ہے کہ تم جیسی ایک اور مصیبت ہمیں گلے لگانے کا شوق ہو سکتا ہے؟”
ہمارے تو کان کھڑے ہو گئے۔ ۔ فٹ سے ہم نے غرا کر کہا ” اچھا تو اب گلے لگانے کا بھی شوق ہے اس محترمہ کو”
آئیں بائیں شائیں کرنے لگے کہ بیگم کیا اول فول کہے جاتی ہو۔ تمہاری قسم تمہیں جھیلنے کے بعد ایک اور کا تو سوچ کر بھی دل کانپ جاتا ہے ۔ ۔ ۔
ہمارے تو ایک بار پھر سے کان کھڑے ہو گئے۔ ۔ ‘اچھااااااا یعنی آپ ایک اور کا سوچتے ہیں”

تنگ آ کر کہنے لگے “افوہ ۔ ۔ یار اگر مل گئی تو اس محترمہ سمیت ہمیں جو چاہے سزا دینا۔ ۔ کم بخت نے میری بھی زندگی عذاب بنا رکھی ہے”۔
ہمم یعنی ہمیں کھلا چیلنج دے دیا کہ ہم اس تک نہیں پہنچ سکتے۔ ۔ ۔
بھئی اب تو پنجے جھاڑ کر ہماری تلاش اور بھی تیز ہو گئی ہے۔ ۔ انکے سونے جاگنے اٹھنے بیٹھنے پر ہماری کڑی نظر رہتی ہے ۔ ۔
یہ خود تو آرام سے کبھی گنگناتے ہیں اور کبھی ہمیں دیکھ کر شیطانی سی مسکراہٹ ہماری طرف اچھال دیتے ہیں مگر انہیں کیا معلوم کہ اس شاطر عورت نے ہمارا جینا کس قدر حرام کر رکھا ہے۔ یقین مانیے جس دن وہ کلموہی مل گئی اس دن ہمیں اس کے “ہونے” پر دکھ سے زیادہ اس بات کی خوشی ہو گی کہ دیکھا ہم نہ کہتے تھے۔ ۔ ۔ “چڑیل کہیں کی” 😛

ضروری نوٹ: جو خاتون شک نہیں کرتی وہ محبت بھی نہیں کرتی۔ اس بابت شادی شدہ مرد حضرات کو اپنا غم اس پوسٹ پر بانٹنے کی اجازت ہے۔

فاطمہ عمران

فاطمہ عمران مصنفہ ہیں اور سوشل میڈیا کے مختلف بلاگز پر ان کی تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top