بچوں کو باتوں سے نہیں عمل سے سکھائیں

for-web-2.jpg

ہر وہ انسان جو کسی ایسے کام میں ملوث پایا جاتا ہے جسے سن کر ہمارا دل دہل جاتا ہے تو اسکا زمہ دار وہ اکیلا نہیں ہے یہ معاشرہ ہے جو ابھی تک اس قابل ہی نہیں بنا کہ اس میں آنکھ کھولنے والے انسان اشرف المحلوقات جیسے لفظ پے پورا اتریں یہ تعلیمی درسگاہیں ہیں یہ کورس ہیں یہ کھوکھلے نارے ہیں اور سب سے بڑا کردار ماں باپ کا ہے جن کی غفلت سے اس تباہی کے دہانے پر پہنچا…

ماں باپ سے پوچھا جائے تو جواب ملتا بہت سمجھاتے ہیں بچے مانتے ہی نہیں نا ماننے کی وجہ آپکو جناب جی میں بتاو بہت سمپل ہے آپ اس سے چاہ کر بھی نگاہیں نہیں چرا سکتے…

ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں بچے وہ کرتے ہیں جو آپ کرتے ہیں بچے وہ نہیں کرتے جو آپ کہتے ہیں..
اگر آپ اپنے بچوں کو معاشرے کے قابل عزت فرد کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں تو بچوں کے سامنے خود کو رول ماڈل ہیش کرنا ہو گا..
اگر ایک ماں دن رات بچوں کو کوستی رہے ہر وقت لعنت و ملامت کرتی رہے..
‘جاہل اٹھ جا ہوم ورک کون کرے گا تیرا باپ’
ایسے فقرے اپنی گفتگو میں میں یوز کرتی رہے..
اور بچوں کو تمیز سے بولنے کی نصیحتیں کرے تو وہ تمیز کبھی نہیں سیکھیں گئے.

اگر ایک باپ خود گھر آتے ہی ٹی وی آن کر لے یا فرغ وقت میں کینڈی کرش کھیلتا رہے اور بچوں کو کہے کہ موبائل زیادہ یوز کرنا آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہوتا تو وہ کبھی عمل نہیں کریں گئے روئیں گے پاپا ہم نے بھی گیمز کھیلنی ہے آگے سے آپ لاکھ سر کھپاتے رہیں توانوں سمجھ نئی آندی پڑھو جا کے

ایسے فقرے بول کر جھنجلاہٹ کا شکار ہوتے رہیں لیکن وہ عمل نہیں کریں گئے..
بچوں کے ساتھ شائستہ زبان استعمال کریں اونچی آواز میں چلا کر ان کے اعصاب متاثر مت کریں دھیمے لہجے میں بولیں..
کوئی بھی نصیحت کرنی ہو خود عمل کر کے دکھائیں..

میری چھوٹی سسٹرز ہیں اگر میِں انکو روز بس کہہ دیتی کہ کوئی بھی کسی سے چیز لینی ہو تو پوچھ کر لیں اور اسکا تھینکس ادا کریں..
لیکن انہوں نے بھول جانا تھا اور میں نے کھپتے رہنا تھا کہ آپکو یاد کیوں نہیں رہتا.

لیکن میں نے خود انکے سامنے عمل کرنا شروع کیا سارا دن ان کے ساتھ ایسے فقروں کا تبادلہ کرتی رہتی ایسے انکی عادت پختہ ہو گئی میں ان سے کوئی چیز مانگو وہ لا کر دیں تو میں کہتی ہوں اچھی بہین آپکا تھینکس یا شکریہ..
تو وہ آگے سے جواب دیتی ہیں کوئی بات نہیں اچھی بیہن یہ ہمارا فرض تھا اور جب وہ کوئی چیز مانگیں تب فرض والی بات میں کہتی ہوں..

اب سکول میں میری سسٹر سے اسکی ٹیچر نے پانی مانگا اس نے لا کر دیا ٹیچر نے تھینکس ادا کیا تو آگے سے میری سسٹر کا جواب سنیں
‘کوئی بات نہیں اچھی میم یہ میرا فرض تھا’
میم بہت خوش ہوئی پوچھتی ہیں کس نے سکھایا بولی آپی نے…

جی جناب جو آپ بچوں کو سکھائیں گے وہ ہی وہ معاشرے کے سامنے لے کر آئیں گئے..
اس طرح آپ بھی اپنے بچوں کو زبانی باتیں کہنے کی بجاے خود عمل کر کے دکھائیں تو ہی وہ آپکی توقعات پر پورا اتر سکتے ہیں ورنہ سوائے سر درد کے کچھ بچے گا..
اللہ نگہبان…
دعاؤں میں یاد رکھیے گا….

الماس چیمہ

الماس چیمہ ڈسکہ سیالکوٹ سے ہیں حساس طبیعت کی وجہ سے کم عمری میں ہی قلم سے رشتہ جوڑ لیا معاشرے کے ہر پہلو پے لکھتی ہیں..

loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top