بچوں کے اقوالِ زریں

article-2.jpg

میں ایک دوست کے ہاں ڈنر پر مدعو تھا‘ ڈنر تھوڑا لیٹ تھا اس لیے مجھے سخت بوریت ہورہی تھی ۔ اتنے میں اُن کی 6 سالہ بیٹی کھیلتے کھیلتے میرے قریب آئی اور اپنے ہاتھ میں پکڑی ٹافی میری طرف لہرا کر بولی’’کھائیں گے؟‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سرہلایا اور منہ کھول دیا۔۔۔اُس نے اطمینان سے ٹافی کا ریپر کھولا اور ٹافی میرے منہ میں ڈالنے کی بجائے اپنے منہ میں ڈال کر چٹخارے لیتے ہوئے بولی’’مزیدار ہے ناں؟‘‘۔۔۔ سیچوایشنل کامیڈی کے اتنے اچھے مظاہرے نے مجھے ایک دم فریش کر دیا۔میں جب بھی کسی بچے سے گفتگو کرتا ہوں تو ایسے ایسے تخلیقی جملے سننے کو ملتے ہیں کہ ہنس ہنس کر برا حال ہوجاتاہے۔میرے ہمسائے میں ایک صاحب ہیں جن کے سر پر 60سال کی عمر میں بھی گھنے بال ہیں‘ ایک دن ان کی پوتی مجھ سے پوچھنے لگی ’’انکل۔۔۔میرے دادا امیر ہیں کہ غریب؟‘‘ میں نے پیار سے کہا’’بھئی آپ کے دادا بہت امیر ہیں‘‘۔ منہ بنا کر بولی’’سر سے تو نہیں لگتے‘‘۔۔۔!!! ایک دفعہ میری چھوٹی بھانجی کہنے لگی’’ماموں۔۔۔میں نے میکڈونلڈ جانا ہے‘‘۔ میں نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔’’ٹھیک ہے‘ لے جاتا ہوں لیکن پہلے میکڈونلڈ کے سپیلنگ بتاؤ‘‘۔۔۔کچھ دیر سوچ کر بولی’’رہنے دیں۔۔۔کے ایف سی چلتے ہیں۔۔۔!!!‘‘
بچے چونکہ من کے سچے ہوتے ہیں لہٰذا ان کی باتیں اتنی بے ساختہ ہوتی ہیں کہ سڑیل سے سڑیل انسان بھی دانت نکالنے پر مجبور ہوجاتاہے۔ بچے بعض اوقات اتنا خالص اور بے ساختہ جملہ کہتے ہیں کہ شاید بڑے سے بڑا مزاح نگار بھی ایسا جملہ تخلیق نہ کر سکے۔ایک دن میرا بڑا بیٹا ثمریز لیپ ٹاپ پہ کوئی گیم کھیل رہا تھا اور چھوٹا بیٹا مہروز بار بار اُسے تنگ کرنے کے لیے چارجر کی پن نکال رہا تھا۔کچھ دیر تو ثمریز نے برداشت کیا‘ پھر غصے سے بولا’’تم اُلو ہو‘‘۔ میں پاس ہی بیٹھا تھا‘ میں نے ثمریز کو گھورا ’’خبردار! اگر تم نے بھائی کو دوبارہ ایسے کہا‘‘۔ ثمریز نے منہ بنایا اور دوبارہ گیم کھیلنے لگا۔ میں اتنی دیر میں کسی کام سے باہر چلا گیا‘ واپس آیا تو چھوٹا پھر ثمریز کو تنگ کر رہا تھا‘ ثمریز پھر اُسے غصے سے اُلوکہنے لگا تھا کہ اچانک مجھ پر نظر پڑتے ہی دانت پیس کراُس سے بولا’’وہی ہو تم ۔۔۔وہی ہو۔۔۔!!!‘‘ مو صوف ایک دفعہ چودہ اگست کے موقع پر جھنڈا خریدتے ہوئے دکاندار سے یہ بھی فرما چکے ہیں کہ ’’انکل کوئی پرپل کلر والا جھنڈا ہے؟؟؟‘‘
مجھے اعتراف ہے کہ مجھ میں اگر جملہ کہنے کی کوئی تھوڑی بہت صلاحیت ہے تو وہ میں نے بچوں سے سیکھی ہے‘ آج سے دو سال پہلے میں ایک رشتہ دار کی شادی میں گیا ہوا تھا‘ اُن کے ایک چھوٹے بچے نے مجھ سے پوچھا’’انکل آپ رائٹر ہیں؟‘‘ میں نے کہا ’’ہاں‘‘۔۔۔ یہ سنتے ہی وہ جھٹ سے بولا’’میرے پاپا بھی رائٹر ہیں‘‘۔ میں الجھن میں پڑ گیا‘ کیونکہ میں اُس کے پاپا کو بچپن سے جانتا تھا‘ وہ تو جنم جنم کے آڑھتی تھے‘ تاہم اپنے اطمینان کے لیے پوچھ ہی لیا کہ’’بیٹا آپ کو کیسے پتا چلا؟‘‘ ۔۔۔بچہ انتہائی معصومیت سے بولا’’وہ روز ماما کو کہتے ہیں کہ میں تمہارے خاندان کو جوتی پر لکھتاہوں‘‘۔میں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری‘ کاش میں بچے کو بتا سکتا کہ جوتی پر لکھنے والا عموماًرائٹر نہیں اینکر پرسن ہوتاہے۔میری ایک کولیگ کا واقعہ بھی بڑا دلچسپ ہے‘ ان کے چھوٹے بیٹے نے سکول میں پہلی بار لفظ’’پیشہ‘‘ سنا توماں سے پوچھنے لگا کہ امی پیشہ کسے کہتے ہیں؟ ماں نے بتایا کہ بیٹا پیشے کا مطلب ہے کام کاج۔ بچے نے بات ذہن نشین کرلی۔کچھ دنوں بعد سکول میں اس کی ٹیچر نے پوچھا کہ بیٹا آپ کی ماما گھر میں کیا کرتی ہیں؟ اطمینان سے بولا۔۔۔’’سارادن پیشہ کرتی ہیں‘‘۔ میرے بھتیجے نے ایک دفعہ مجھ سے پوچھا کہ چاچو’’حضرت‘‘ کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ میں نے کہا ’’حضرت کا لفظ کسی کو احترام سے بلانے کے لیے استعمال ہوتاہے‘ یوں سمجھ لو کہ اس کا مطلب ہے جناب‘ محترم وغیرہ‘‘۔اس نے سرہلایا اور چلا گیا۔تھوڑی دیر بعد دروازے پر بیل ہوئی ‘ بھتیجا دوڑتا ہوا میرے کمرے میں داخل ہوا اور جلدی سے بولا’’چاچو۔۔۔حضرت دادا ابو آئے ہیں۔۔۔‘‘
گود میں اٹھانے والے بچے بھی اپنے پیار کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتے ہیں‘ اِنہیں جس سے زیادہ پیار ہوتا ہے اُسی کو اپنی محبت میں ’’شرابور‘‘ کرتے رہتے ہیں۔ عقل و دانش کی باتیں سیکھنی ہوں تو بچوں سے بہتر کوئی اُستاد نہیں‘ یہ بھول کر بات کو الٹ بھی کر دیں تو بعض اوقات وہی بہترین جملہ بن جاتاہے۔ قاسمی صاحب نے ایک دفعہ ایک بچے سے پوچھا کہ بڑے ہو کر کیا بنو گے؟ مزے سے بولا’’مریض بن کر ڈاکٹروں کی خدمت کروں گا‘‘۔
یہ سچ ہے کہ آج کی جدید دنیا کا بچہ بہت تیز ہوچکا ہے‘ اب دس سال کا بچہ ‘ بچہ نہیں رہتا‘ کیبل اور انٹرنیٹ کی بدولت اسے ’’بلاتکار‘ گود بھرائی‘ آتما ہتھیا‘ دوسری شادی اور ناجائز تعلقات ‘‘جیسے الفاظ سے واقفیت ہوچکی ہے لیکن وہ ان کے مفہوم اور پیچیدگیوں سے آج بھی ناواقف ہے۔ ایسے بچوں کے سوالات کچھ کچھ بڑوں والے ہوتے ہیں لیکن وہ بچے جو ابھی ’’ننھے‘‘ ہیں ان کی حیرت انگیز اور قہقہہ بار باتیں آج بھی دل و دماغ معطر کر دیتی ہیں۔بڑوں کے اندر کا کارٹون سب سے پہلے بچے ہی دریافت کرتے ہیں‘ سنجیدہ سے سنجیدہ انسان بھی کسی بچے کو اپنی ڈیسنٹ پرسنیلٹی سے متاثر نہیں کر سکتا‘ بچے کا دل جیتنے کے لیے اوٹ پٹانگ منہ بنانا ضروری ہے‘ آپ نے کئی ایسے باپ دیکھے ہوں گے جو اپنی جوان اولادوں کے سامنے مسکرانے سے بھی گریز کرتے ہیں‘ اِن کے چہروں پر ہر وقت ایک کرختگی چھائی رہتی ہے ‘ اِن کی اولادیں بھی باپ کے سامنے سہمی سہمی رہتی ہیں‘ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اتنی سخت گیر شخصیت کے مالک نے کبھی اوٹ پٹانگ منہ بھی بنایا ہوگا۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں۔۔۔یہ بھی اپنی اولاد کے بچپن میں اُن کے ساتھ کارٹون بن کرکھیلتے ہیں تاہم اولاد جوان ہونا شروع ہوتی ہے تو یہ فوراً خود پر بردباری کا نقاب چڑھا لیتے ہیں اور اولاد کو یاد ہی نہیں رہتا کہ ان کا باپ بھی کبھی مسکرایا تھا۔۔۔
یہ لوگ اپنی اس کیفیت کو تاعمر برقرار رکھنا چاہتے ہیں لیکن جونہی اِن کا کوئی پوتا‘ پوتی پیدا ہوتاہے ‘ اِن کو شکست فاش ہوجاتی ہے۔۔۔یہ اپنے اندر کا کارٹون دبانے کی بڑی کوشش کرتے ہیں لیکن اولاد کی اولاد ایک ہی دن میں اِن کے اندر خودکش حملہ کرکے ساری مصنوعی دیواریں پاش پاش کر دیتی ہے۔مجھے یقین ہے آپ کے بچے بھی پُرلطف جملوں سے مالا مال ہوں گے‘ اِن کی باتیں بھی شیئر کیجئے ناں۔۔۔!!!

تحریر : گل نوخیز اختر

گل نوخیز اختر

گل نوخیز اخترایک پاکستانی کالم نگار اور مصنف ہیں انہوں نے مختلف ٹی وی شو کے لئے کام کیا ہے،

loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top