بابا جانی

1.png

بستر پہ بیمار پڑے تھے
بابا جانی کروٹ لے کر
ہلکی سی آواز میں بولے
بیٹا کل کیا منگل ہو گا
گردن موڑے بِن میں بولا
بابا کل تو بدھ ہے
بابا جانی سن نہ پائے
پھر سے پوچھا کل کیا دن ہے
تھوڑی گردن موڑ کے میں نے
لہجے میں کچھ زہر ملا کے
منہ کو کان کی سیدھ میں لاکے
دھاڑ کے بولا بدھ ہے بابا
آنکھوں میں دو موتی چمکے
سوکھے سے دو ہونٹ بھی لرزے
لہجے میں کچھ شہد ملا کے
بابا بولے بیٹھو بیٹا
چھوڑ دو دن کو دن ہیں پورے
تم میں میرا حصہ سن لو
بچپن کا ایک قصہ سن لو
یہی جگہ تھی میں تھا تم تھے
تم نے پوچھا، رنگ برنگی
پھولوں پر یہ اڑنے والی
اسکا نام بتائیں بابا
گال پر بوسہ دے کر میں نے
پیار سے بولا تتلی بیٹا
تم نے پوچھا کیا ہے بابا؟؟
پھر میں بولا تتلی بیٹا
تتلی تتلی کہتے سنتے
ایک مہینہ پورا گزرا
ایک مہینہ پوچھ کے بیٹا
تتلی کہنا سیکھا تم نے
ہر اک نام جو سکھا تم نے
کتنی بار وہ پوچھا تم نے
تیرے بھی تو دانت نہیں تھے
میرے بھی اب دانت نہیں ہیں
تیرے پاس تو بابا تھے نا
میرے پاس تو بیٹا ہے نا
بوڑھے سے اس بچے کی بھی
بابا ہوتے سن بھی لیتے
تیرے پاس تو بابا تھے نا
میرے پاس تو بٹیا ہے نا

عابی مکھنوی

عابی مکھنوی مصنف اور شاعر ہیں اور معاشرے کے مختلف پہلووں پر لکھتے اور شاعری کرتے ہیں۔

loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top