امن کی زمین پر برداشت کی کھاد

d.jpg

گال سری لنکا کے جنوب مغربی صوبے کا دارالحکومت ہے‘ کولمبو سے سوا سو کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بڑی سیاحتی منزل ہے‘ آپ وفاقی دارالحکومت سے نکلتے ہیں اور ڈیڑھ گھنٹے میں گال پہنچ جاتے ہیں‘ گال کا کرکٹ سٹیڈیم کرکٹ کے متوالوں میں پوری دنیا میں مشہور ہے‘ ہماری ٹیم کئی بار یہاں گئی اور عوام نے سکرین پر گال سٹی دیکھا‘شہر ڈچ جہاز رانوں نے تین سو سال قبل آباد کیا‘ یہ لوگ انڈیا جاتے ہوئے سولہویں صدی میں یہاں پہنچے اور علاقے کی خوبصورتی کے اسیر ہو گئے‘

گال ڈچ جہاز رانوں کی آمد سے قبل مچھیروں کی ایک غیر آباد بستی تھا‘ لوگ مچھلیاں پکڑتے تھے‘ سکھاتے تھے اور بیچ دیتے تھے‘ مچھلیوں کے علاوہ کوکونٹ‘ پپیتا اور انناس ان کی کل میراث ہوتے تھے‘ موسم گرم مرطوب تھا‘ لوگوں کی جلد سیاہ اور آنکھیں موٹی تھیں‘ ڈچ جہاز رانوں کو جگہ کے ساتھ ساتھ لوگ بھی پسند آ گئے چنانچہ یہ یہاں بس گئے‘ علاقے کو اپنی ملکیت میں رکھنے کیلئے انہوں ے یہاں مضبوط اور وسیع قلعہ تعمیر کیا‘ یہ قلعہ آج تک قائم ہے‘ فصیل شہر سمندر کے ساتھ ساتھ چلتی ہے‘ چاروں کونوں میں فوجی پوسٹیں ہیں‘ پرانے زمانے میں ان پوسٹوں پر یقیناتوپیں نصب ہوں گی‘ شہر قلعے کے اندر آباد تھا‘ گلیاں کھلی اور پتھریلی تھیں‘ مکان ہسپانوی طرز کے تھے‘ چھتیں بلند اور چوبی تھیں‘ کھڑکیاں اونچی اور دروازے موٹے تھے‘ گھروں میں روشنی کیلئے لکڑی کی جالیاں بنائی گئی تھیں‘دیواروں پر بیلیں چڑھی ہوئی تھیں اور گلیوں میں فوارے اور گھوڑوں کیلئے چھوٹے چھوٹے تالاب بنائے گئے تھے‘ یہ قلعہ بعد ازاں پرتگالیوں کے قبضے میں آیا اور پھر برطانیہ نے ہتھیا لیا‘ یورپ کی یہ تینوں تہذیبیں آج بھی قلعے کی گلیوں سے چپکی ہیں‘ آپ جوں جوں گلیوں میں پھرتے ہیں آپ کو یورپی تہذیب کی خوشبو مبہوت کرتی جاتی ہے‘آپ ماضی میں اترتے چلے جاتے ہیں۔ہم بدھ 25 نومبر کو گال پہنچے‘ کولمبو سے گال کا سفر یاد گار تھا‘ ہائی وے کے دونوں اطراف سبزہ تھا‘ زمین دکھائی نہیں دیتی تھی‘

ہم نے کولمبو سے ناریل کے درختوں کے ساتھ سفر شروع کیا اور یہ سفر گال تک جاری رہا‘ راستے میں چائے کے چھوٹے چھوٹے چند باغات بھی آئے‘سری لنکا کی چائے پوری دنیا میں مشہور ہے‘ یہ لوگ سینکڑوں اقسام کی چائے اگاتے ہیں‘ چائے کے زیادہ تر باغات سری لنکا کے سات اضلاع میں ہیں‘ یہ اضلاع ٹی ڈسٹرکٹ کہلاتے ہیں‘ چائے کا پودا پہاڑ کی اترائیوں پر اگتا ہے‘ کیوں؟ کیونکہ چائے نازک ہوتی ہے‘ اگر جڑوں میں پانی اکٹھا ہو جائے تو پودا مرجھا جاتا ہے چنانچہ چائے کے باغات

پہاڑ کی اترائیوں پر اس طرح لگائے جاتے ہیں کہ بارش کا پانی پودوں کو سیراب کرے اور آگے نکل جائے‘ یہ جڑوں میں اکٹھا نہ ہو‘ چائے کی ساتوں ڈسٹرکٹس پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہیں لہٰذا زیادہ تر باغات وہاں ہیں‘ سری لنکا ان باغات سے ہر سال اربوں ڈالر کماتا ہے‘ چائے کے مالکان نے باغوں میں چائے خانے بھی بنا رکھے ہیں‘یہ باغ سے چائے کے تازہ پتے توڑتے ہیں‘ گرم پانی میں ڈالتے ہیں‘ دم دیتے ہیں اور مہمانوں کو پیش کر دیتے ہیں‘ یہ لوگ چائے میں دودھ نہیں ڈالتے‘ کولمبو شہر میں پرتگالیوں کے دور کی ایک خوبصورت مارکیٹ ہے‘ یہ مارکیٹ دو سو سال قبل فوجی چھائونی تھی‘ حکومت نے چھائونی کو مارکیٹ میں تبدیل کر دیا‘ یہ علاقہ ’’انڈی پینڈنس سکوائر‘‘ کہلاتا ہے‘

یہ خوبصورت لان‘ فواروں اور اونچی سفید عمارتوں کا کمپلیکس ہے‘ کمپلیکس میں سری لنکا کا ایک روایتی چائے خانہ بھی ہے‘ میں جب بھی سری لنکا جاتا ہوں اس چائے خانے میں ضرور جاتا ہوں اور وہاں گھنٹوں بیٹھا رہتا ہوں‘ چائے خانے کے کائونٹر پر چائے کے بیسیوں برانڈز رکھے ہوتے ہیں‘ آپ کسی ڈبے پر ہاتھ رکھ دیں‘ ویٹر کیتلی میں ابلتا ہوا پانی ڈالے گا‘لوہے کی چھاننی میں چائے کی پتیاں ڈالے گا‘ وہ چھاننی کیتلی کے اندر رکھے گا‘ ڈھکن لگائے گا اور کیتلی میز پر رکھ دے گا‘ آپ کے سامنے چھوٹی سی ریت کی گھڑی بھی رکھ دی جائے گی‘ گھڑی کی ریت جب نچلے خانے میں آ جائے گی تو آپ چھاننی کیتلی سے نکال دیں اور چائے کپ میں ڈال کر پی جائیں‘ چائے کو دم کیلئے عموماً دو سے پانچ منٹ دیئے جاتے ہیں‘

میں اس وزٹ کے دوران بھی تین بار اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس چائے خانے میں گیا اور ہم دیر تک وہاں بیٹھے رہے۔کولمبو سے گال کے درمیان چائے کے باغات تھے لیکن یہ چھوٹے چھوٹے غیر پیداواری باغ تھے‘ لوگوں نے شاید یہ باغ اپنی ضرورت کیلئے لگائے تھے لیکن کوکونٹ اور پام کے بلند درختوں کے آگے یہ باغ بہت خوبصورت لگتے تھے‘راستے میں بارش شروع ہو گئی‘ بارش نے ماحول کو مزید رومانوی بنا دیا‘ آپ تصور کیجئے تاحد نظر سبزہ ہو‘ سبزے کے اوپر بارش کی باریک پھوار ہو‘ پھوار کے درمیان ہموار سڑک ہو اور سڑک پر سبک خرام گاڑیاں ہوں یہ منظر کتنا شاندار ہو گا؟ وین میں ہم چھ صحافی تھے‘ ہارون الرشید الگ گاڑی میں سفر کر رہے تھے‘

وہ اپنی بزرگی اور روحانی طاقت بچانے کیلئے ہم لفنگے صحافیوں سے دور دور رہتے تھے‘ مظہر برلاس احتیاطاً ان کے ساتھ بیٹھے تھے جبکہ ہم لوگ آرام دہ وین میں تھے‘ ہمارے ساتھ دو خواتین فریحہ ادریس اور نیلم نواب بھی سفر کر رہی تھیں‘ یہ ہمارے پنجابی لہجوں سے تنگ تھیں‘ ہم لوگ جہاں تک ہو سکا خواتین کا احترام کرتے رہےلیکن عامر ملک اور شوکت پراچہ زیادہ دیر برداشت نہ کر سکے‘ یہ بھی قہقہے لگانے لگے‘ خواتین تنگ آ گئیں‘ میری شخصیت میں بے شمار خامیاں ہیں‘ ان خامیوں میں سے ایک خامی غیر سنجیدگی بھی ہے‘ میں سفر میں زیادہ دیر تک سنجیدہ نہیں رہ سکتا‘ میں ہم سفروں میں غیر ضروری حد تک گھل مل جاتا ہوں‘ ہم لوگ ایک دوسرے کیلئے اجنبی تھے

لیکن سفر کی غیرسنجیدگی نے چند گھنٹوں میں ہمارے درمیان اجنبیت کی دیوار گرا دی اور ہم نے یہ پانچ دن قہقہوں میں گزار دیئے‘ خواتین اور ہارون الرشید سنجیدہ اور مہذب لوگ تھے چنانچہ ہم نے مہذب لوگوں کو ایک گاڑی میں اکٹھا کر دیا‘ خواتین ہارون الرشید کی روحانی پناہ میں چلی گئیں اور ہم نے لفنگا پن شروع کر دیا یوں قافلہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا‘معززین اور غیر معززین‘ معززین روحانیت اور فلسفے پر گفتگو کرتے رہے اور ہم لفنگے ایک دوسرے کو لطیفے سناتے اور پیٹ پکڑ کر لوٹ پوٹ ہوتے رہے‘ مظہر برلاس اور شوکت پراچہ دونوں میری نئی دریافتیں ہیں‘ مظہر برلاس کھلے ذہن اور کھلے دل کے انسان ہیں‘ یہ بڑی سے بڑی بات پانی کی طرح پی جاتے ہیں جبکہ شوکت پراچہ میں دیہاتی کھرا پن ہے‘

یہ زندگی کے تقریباً تمام معاملات پر ذاتی رائے رکھتے ہیں اور دنیا میں ’’ذاتی رائے‘‘ رکھنے والے لوگ قابل احترام ہوتے ہیں‘ رائے کا ٹھیک یا غلط ہونا اتنا اہم نہیں ہوتا جتنا اہم رائے کا مالک ہونا ہوتا ہے اور یہ شخص ذاتی رائے رکھتا ہے‘ میں ان سے بہت انسپائر ہوا‘ گال سیاحوں سے بھرا تھا‘زیادہ ترسیاح یورپ سے آئے تھے‘یہ شاٹس اور شرٹس میں گلیوں میں گھوم رہے تھے‘ ساحل گوری چمڑی سے اٹا پڑا تھا‘ لوگ نیکروں میں ریت پر لیٹے تھے اور گرم سورج ان کے سفید جسموں کو گدگدا رہا تھا‘ چائے خانے‘ ریستوران اور سووینئر شاپس بھی گاہکوں سے بھری پڑی تھیں‘ گال میں غلامی کے دور کی ایک قدیم لائبریری بھی تھی‘

یہ لائبریری 1832ء میں قائم ہوئی اور یہ آج تک قائم ہے‘ الماریوں میں دو سو سال پرانی کتابیں ہیں‘ کتابوں کے آخری صفحات پر ان گوروں کے نام بھی لکھے ہیں جو یہاں آئے اور ان کتابوں سے استفادہ کیا‘ شہر میں اڑھائی سو سال پرانی مسجد بھی ہے‘ یہ مسجد عرب تاجروں نے بنائی تھی‘ ان تاجروں کی نسل آج بھی گال میں موجود ہے اور یہ اس مسجد کو آباد کئے ہوئے ہیں‘یہ مسجد ساحل پر واقع ہے‘ یہ دن میں پانچ مرتبہ ساحل پر لیٹے جوان جسموں سے مخاطب ہوتی ہے‘ یہ انہیں پیغام دیتی ہے’’لوٹ آئو تمہارے رب کے دروازے آج بھی تمہارے لئے کھلے ہیں‘‘ گال کی گلیوں میں امن اور برداشت بہتی ہے‘ اس بہتے ہوئے امن اور کروٹ بدلتی برداشت میں ہم جیسے مسافروں کیلئے بے شمار سبق چھپے ہیں‘

یہ بتاتے ہیں ترقی امن کی زمین میں برداشت کی کھاد میں پنپتی ہے‘ آپ کے پاس اگر امن کی زمین اور برداشت کی کھاد نہیں تو آپ کبھی ترقی نہیں کر سکتے‘ سری لنکا چند برس پہلے تک دنیا کا خوفناک ترین ملک تھا‘ تامل ٹائیگرز نے ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی‘ یہ لوگ خودکش جیکٹ تک کے موجد تھے لیکن آج چند برس بعد سری لنکاپوری دنیا کیلئے کھلا ہے‘ 2016ء میں سری لنکا میں 28 لاکھ سیاح آئے اور سری لنکا نے ان سیاحوں سے ہماری برآمدات سے زیادہ رقم کمائی‘ کاش ہم بھی کسی دن بیٹھیں اور اپنے ضمیر کی عدالت میں یہ پٹیشن فائل کریں ’’اگر سری لنکا دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کرسکتے‘‘ ہو سکتا ہے یہ سوال ہمیں اس راستے پر ڈال دے جہاں سے ترقی اور امن کا سفر شروع ہوتا ہے۔

جاوید چوہدری

جاوید چوہدری پیشے کے لحاظ سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں، ان کے سب سے قابل ذکر کالم ’’ زیرو پوائنٹ ‘‘ خاص طور پر پاکستان کے عوام یوتھ اور پاکستان کے مسلمانوں پر بہت بڑا اثر ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top