اللہ کرے ہو جائے

Allah-kry-ho-jay-.jpg

جسٹس شوکت عزیز صدیقی جماعت اسلامی کے بانی رکن مولانا نعیم صدیقی مرحوم کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں‘ یہ دبنگ‘ دلیر اور خوددار انسان ہیں‘ یہ اسلام‘ عشق رسولؐ اور نظریہ پاکستان کو اپنا اثاثہ سمجھتے ہیں‘ جج بننے سے قبل راولپنڈی میں 23 سال وکالت کی‘ نام‘ عزت اور رزق حلال کمایا اور 20 نومبر 2011ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج منتخب ہو گئے‘ جج کی حیثیت سے انھوں نے 12000 فیصلے دیے‘ جسٹس صدیقی کے بے شمار فیصلوں نے سیاست میں اہم کردار ادا کیا‘مثلاً اسلام آباد کے رہائشی سیکٹروں میں پرائیویٹ اسکول‘ ریستوران‘ شورومز‘ دکانیں اور دفاتر قائم تھے، جسٹس شوکت صدیقی نے حکم جاری کیا اور حکومت رہائشی علاقے صاف کرانے پر مجبور ہو گئی۔
اسلام آباد کے شہریوں نے سکھ کا سانس لیا‘ جنرل پرویز مشرف کی ضمانت کی منسوخی بھی جسٹس صدیقی کا کارنامہ تھا اور پاکستان تحریک انصاف کو لاک ڈاؤن سے روکنا اور راولپنڈی اسلام آباد کی سڑکوں سے کنٹینرز ہٹانے کا حکم بھی جسٹس شوکت صدیقی نے دیا تھا‘ لاپتہ افراد‘ کچی آبادیوں کا معاملہ‘ سرکاری ملازمین کی ترقی کا ایشو اور قربانی کے جانوروں کی اسمگلنگ رکوانا بھی ان کا کارنامہ تھا‘ یہ پڑھے لکھے اور دبنگ انسان ہیں‘ یہ فیصلوں میں علامہ اقبال کے شعر لکھ دیتے ہیں‘ یہ عدالت میں سرکاری ملازمین کی پتلونیں بھی ڈھیلی کر دیتے ہیں‘ یہ اکثر اوقات جعلی گواہوں کی ہوا بھی نکال دیتے ہیں اور یہ نوجوان وکیلوں کی غلطیوں پر بھی ان کی ٹھیک ٹھاک گرفت کر لیتے ہیں‘ جج صاحب کا یہ رویہ اکثر لوگوں کو تکلیف دیتا ہے‘ بالخصوص سرکاری ملازمین اور اعلیٰ افسر جسٹس صدیقی سے خوش نہیں ہیں‘ یہ ان کی عدالت میں جانے سے گھبراتے ہیں‘ یہ کیونکہ نظریہ پاکستان اور اسلام پر کمپرومائز نہیں کرتے‘ یہ اپنا موقف کھل کر بیان کرتے ہیں چنانچہ لبرل اور سوڈو اینٹی لیکچول قسم کے وکلاء بھی ان سے ناراض رہتے ہیں۔
یہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا بیک گراؤنڈ تھا‘ ہم اب عدلیہ کے تازہ ترین ایشو کی طرف آتے ہیں‘پاکستان کے 1973ء کے آئین کے مطابق حکومت کا کوئی ادارہ کسی بھی الزام میں کسی جج کے خلاف تحقیقات نہیں کر سکتا‘ آئین کی دفعہ 209ء کے تحت ججوں کو صرف سپریم جوڈیشل کونسل عہدے سے ہٹا سکتی ہے‘ ملک کا کوئی بھی شہری‘ کسی بھی جج کے خلاف تحریری شکایت کر سکتا ہے‘ کونسل اس شکایت کو ریفرنس بنا کر جج کو شوکاز نوٹس جاری کرتی ہے اور پھر اس کے خلاف کارروائی شروع ہو جاتی ہے‘ کونسل میں پانچ سینئر ترین جج شامل ہوتے ہیں‘ یہ پینل جج کا موقف سنتا ہے اور اگر جرم ثابت ہو جائے تو کونسل جج کو عہدے سے ہٹا دیتی ہے‘ یہ ملک کا قانون اور ضابطہ ہے لیکن اس ضابطے پر آج تک عمل نہیں ہو سکا‘ سپریم جوڈیشل کونسل نے آج تک کسی جج کو اس کے عہدے سے نہیں ہٹایا‘ کیوں؟ کیونکہ ملک میں جب بھی کسی جج کے خلاف کوئی ریفرنس دائر ہوتا ہے تو وہ جج صاحب مستعفی ہوجاتے ہیں‘ جج صاحب کو اس استعفے کے دو فائدے ہوتے ہیں‘ ہائی کورٹ میں پانچ سال کام کرنے کے بعد جج پنشن اور دیگر مراعات کے اہل ہو جاتے ہیں۔
یہ مستعفی ہونے کے بعد بھی ان مراعات اور پنشن کے حق دار رہتے ہیں چنانچہ جج استعفے کو ’’ڈس مسل‘‘ پر فوقیت دیتے ہیں‘ دو‘ مستعفی ہونے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل جج کے خلاف کارروائی بند کر دیتی ہے لہٰذا جج مستعفی ہو کر اس سہولت کا فائدہ اٹھانا بھی پسند کرتے ہیں‘ ججوں کے خلاف یہ تمام کارروائی بند کمرے میں ہوتی ہے‘ کونسل نے آج تک متنازعہ ججوں کے بارے میں کسی قسم کا کوئی مواد عام نہیں کیا‘ وکلاء ججوں کی ان دونوں سہولتوں کے خلاف ہیں‘ یہ طویل عرصے سے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی اور ججوں پر لگائے جانے والے الزامات کو عام کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں‘ یہ الزامات کے بعد استعفے کی سہولت بھی ججوں سے واپس لینا چاہتے ہیں‘ پاکستان بار کونسل کے ایک ممبر نے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کے دور میں سپریم کورٹ میں اس ایشو پر پٹیشن بھی دائر کی‘ یہ پٹیشن مسترد کر دی گئی لیکن پٹیشنر نے نظرثانی پٹیشن جمع کرا دی‘ یہ درخواست بھی سپریم کورٹ میں تاحال سماعت کی منتظر ہے۔
سپریم جوڈیشل کونسل میں اس وقت ہائی کورٹ کے پانچ ججوں کے خلاف ریفرنسز زیر سماعت ہیں‘ ان میں سے ایک جج جسٹس مظہر اقبال سدھو مستعفی ہو گئے ہیں‘ یہ لاہور ہائی کورٹ سے منسلک تھے‘ ان کے کسی ملازم کے اکاؤنٹس سے بھاری رقم نکل آئی تھی‘ ریفرنس تیار ہوا لیکن جج صاحب نے کارروائی سے قبل استعفیٰ دے دیا‘ دوسرے جج بھی لاہور سے تعلق رکھتے ہیں‘ یہ پانامہ میں آف شور کمپنی کے مالک تھے‘ یہ اس الزام میں ریفرنس کا سامنا کر رہے ہیں‘ تیسرے جج صاحب پر الزام ہے انھوں نے کسی ملزم کی ضمانت کی درخواست دوبار مسترد کی‘ ملزم نے تیسری بار وکیل بدل لیا‘ جج صاحب نے ملزم کی ضمانت منظور کر لی‘ یہ اپنے ہی فیصلے کی تبدیلی پر زیر سماعت ہیں‘ چوتھے جج صاحب پر غیر قانونی بھرتیوں کا الزام ہے‘ ان بھرتیوں میں ان کا سگا بھائی بھی شامل تھا‘ یہ بھائی براہ راست ڈپٹی رجسٹرار بھرتی ہو گیا۔
یہ بھرتی غیرقانونی تھی تاہم جج صاحب کا موقف ہے یہ بھرتیاں میرے آنے سے پہلے ہوئی تھیں اور پانچویں جج شوکت عزیز صدیقی ہیں‘ یہ بھی اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل میں پیش ہو رہے ہیں‘ جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر دلچسپ الزامات ہیں‘ حکومت نے جج بنے کے بعد انھیں اسلام آباد میں سرکاری رہائش دی تھی‘ یہ گھر پرانا تھا‘ جج صاحب نے سی ڈی اے کے ذریعے اس گھر کی تزئین وآرائش کرائی‘ سی ڈی اے کے ایک سابق ڈائریکٹر نے جسٹس صدیقی کے خلاف اختیارات سے تجاوز کی تحریری شکایت کر دی‘ جسٹس صدیقی پر دوسرا الزام ہے ان کے ایک دوست منظور شاہ 29 سال سے سی ڈے اے کے ملازم ہیں‘ سی ڈی اے رولز کے مطابق ملازمین کو دس سال بعد پلاٹ دیا جاتا ہے‘ منظور شاہ کو پلاٹ نہیں ملا تھا‘ یہ عدالت میں پیش ہوئے اور جسٹس صدیقی کے حکم پر انھیں پلاٹ دے دیا گیا‘ یہ پلاٹ بعد ازاں عدالتی حکم پر تبدیل بھی کیا گیا اور ان پر تیسرا الزام ہے جسٹس صدیقی نے اپنے ایک عیسائی دوست کو سی ڈی اے سے ترقی بھی لے کر دی اور جب اسے برین ہیمرج ہوا تو ادارے کو اس کے پرائیویٹ علاج کا حکم بھی دیا۔
سپریم جوڈیشل کونسل نے یہ شکایات تسلیم کر لیں اور یوں جسٹس صاحب کے خلاف کارروائی شروع ہو گئی‘ جسٹس شوکت صدیقی کے پاس ریفرنس کے بعد دو آپشن ہیں‘ یہ بھی جسٹس مظہر اقبال سدھو کی طرح عہدے سے استعفیٰ دے دیں‘ پٹیشن اور مراعات لیں اور زندگی مزے سے گزار دیں یا پھر یہ ریفرنس کا سامنا کریں‘ یہ خود کو بے گناہ ثابت کریں اور عزت کے ساتھ اپنی مدت ملازمت پوری کریں‘ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دوسرا آپشن منتخب کیا‘ یہ ریفرنس کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو گئے‘ یہ سلسلہ یہاں تک قانونی اور معمول کی کارروائی ہے لیکن جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی ایک درخواست نے سارے معاملے کو گھمبیر بنا دیا‘ جسٹس صاحب نے کونسل سے درخواست کر دی‘ آپ میرے مقدمے کو اوپن کر دیں‘ مجھے عام ملزموں‘ سرکاری ملازموں اور سیاستدانوں کی طرح عدالت میں پیش ہونے کی اجازت دی جائے‘ میرے اوپر باقاعدہ الزامات لگائے جائیں۔
مجھے ان الزامات کی صفائی کا موقع دیا جائے اور میڈیا‘ وکلاء اور عام لوگ عدالت میں بیٹھ کر اس مقدمے کی کارروائی دیکھیں‘ جسٹس صدیقی کا کہنا ہے ’’میں پوری قوم کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنا چاہتا ہوں‘میں اگر مجرم پایا جاؤں تو آپ خواہ مجھے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے لٹکا دیں‘ میں اعتراض نہیں کروں گا لیکن میں کرپشن‘ لاقانونیت اور بدعنوانی کے الزام کے ساتھ گھر جانے کے لیے تیار نہیں ہوں‘ ‘جسٹس شوکت صدیقی کا دعویٰ ہے میرے اوپر الزامات لگانے والا شخص سی ڈی اے کا ڈائریکٹر تھا‘ یہ مختلف الزامات میں درجنوں مرتبہ میری عدالت میں پیش ہوا‘ میں نے اس کے بیٹے کے خلاف بھی فیصلہ دیا تھا‘ ڈائریکٹر نے قانون اور ضابطے کے خلاف بیٹے کو سی ڈی اے میں بھرتی کر لیا تھا‘ بھرتی کے لیے اشتہار دیا گیا تھا اور نہ ہی ضابطے کی کارروائی کی گئی تھی۔
یہ معاملہ میری عدالت میں آیا‘ ملزم اپنا موقف ثابت کرنے میں ناکام ہو گیا چنانچہ میں نے اس کے خلاف فیصلہ دیا اور یہ میرے خلاف درخواستیں دینے لگا‘ جسٹس شوکت صدیقی کا کہنا ہے‘ میرے سرکاری گھر کے ڈرائنگ روم میں چار ٹائلز لگائی گئی تھیں‘ سی ڈی اے کے ملازمین نے اس معمولی کام کے لاکھوں روپے وصول کر لیے‘ یہ ان لوگوں کا قصور ہے میرا نہیں چنانچہ میرے بجائے ان کے خلاف کارروائی کی جائے‘منظور شاہ کو قانوناً دس سال بعد پلاٹ ملنا چاہیے تھا‘ میں نے قانون کے مطابق فیصلہ دیا اور ادارے کو برین ہیمرج کے مریض کا علاج بھی کرانا چاہیے تھا‘ میں نے یہ فیصلہ بھی قانون کے دائرے میں رہ کر دیا۔
یہ ریفرنس بہت دلچسپ ہو گا‘ سپریم جوڈیشل کونسل اگر جسٹس صدیقی کی درخواست منظور کر لیتی ہے اور یہ ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی جج کے خلاف ’’اوپن ٹرائل‘‘ شروع کر دیتی ہے تو پاکستان میں نئی روایات کا آغاز ہو جائے گا جس کے بعد عدلیہ کی عزت میں بھی اضافہ ہو گا اور ملک کی بے شمار مقدس گائیں بھی مقدس نہیں رہیں گی‘ ملک میں جج ہوں‘ جرنیل ہوں یا پھر جرنلسٹ ہوں قانون کے سامنے سب برابر ہو جائیں گے‘ اللہ کرے یہ ہو جائے‘ یہ ملک اب زیادہ وقت تک مقدس گائیوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔

جاوید چوہدری

جاوید چوہدری پیشے کے لحاظ سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں، ان کے سب سے قابل ذکر کالم ’’ زیرو پوائنٹ ‘‘ خاص طور پر پاکستان کے عوام یوتھ اور پاکستان کے مسلمانوں پر بہت بڑا اثر ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top