تھری ڈی کے بعد اگلا ہدف

3D-k-bad-agla-hadaf-imran-adeeb.jpg

لیجئے ! اب تھری ڈی کے بعدسیون ڈی ٹیکنالوجی بہت جلد متعارف ہوجائے گی۔اس ٹیکنالوجی میں تصویر سکرین یا دیوار کے بجائے بالکل روبرو حقیقت میں نظر آئے گی ۔یہ تصویر اتنی حقیقی دکھائی دے گی کہ نظر علم ہونے کے باوجود بار بار دھوکہ کھائے گی ۔کردار اور منظر آپکے کمرے کا حقیقی منظر اوجھل کر کے تصویری منظر کو اس قدر حاوی کر دیں گے کہ ممکن ہے آپ شاہ رخ خان کی شاندار پر فارمنس دیکھ اسے گلے ملنے کی کوشش کریں ۔یا کسی خوبصور ت پہاڑی سلسلے پر چڑھنے کے شوق میں صوفے سے ٹکرا جائیں ۔ اس ٹیکنالوجی کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ منظر فلمی بد روحوں کی طرح چمکدار نہیں ہونگے ۔بلکہ نارمل روشنی اور کنٹراسٹ پر مشتمل ہونگے تاکہ آنکھوں کی بینائی متاثرنہ ہو ۔

اس ٹیکنالوجی کو سائنسی زبان میں ہولوگرافی کہا جاتا ہے ۔یہ ٹیکنالوجی لیز ر شعاعوں کا مجموعہ ہے جس کے ذریعے فلمی مناظر بالکل حقیقت میں دکھایا جاتا ہے ۔اس ٹیکنالوجی کی اب تک چار نمائشیں ہوچکی ہیں ۔پہلی نمائش لندن میں منعقد ہوئی ۔جس میں ناپید جنگلی جانور اور خلا باز زمین پر حرکت کرتے دیکھائے گئے ۔دوسری نمائش امریکہ میں ہوئی ۔یہ نمائش خاصی حیران کن تھی ۔اس نمائش میں لوگوں کو ایک گراؤنڈ میں اکٹھا کیا گیا ۔اس کے بعد سیون ڈی ٹیکنالوجی سے بنی ایک سمندری ویڈیوپلے کی گئی ۔ اس ویڈیوکے سین زیر سمندر سے اوپر کی طرف کو لیے گئے تھے ۔جس میں خوفناک سمندری جانور تیرتے پھر رہے تھے ۔ویڈیو کے پلے ہوتے ہی ایک رنگ ہر طر ف چھاتا گیا ۔پھر اس رنگ میں پانی کی ہلچل ہوئی اور خوفناک بلائیں تیرتی نظر آنے لگیں ۔چند ساعتوں بعدلوگ خود کو زیر سمندر بیٹھا دیکھنے لگے ۔ان کے آس پاس مچھلیاں اور سمندر ی درندے دھنددھناتے پھر رہے تھے ۔یہ بالکل حقیقت کے نہایت قریب ترین تھا ۔تیسری نمائش لندن کے ایک سکول میں ہوئی ۔جس میں برفانی ساحل سمند رپر برفانی جانور کھیلتے دیکھائے گئے ۔اس ویڈیو کو چھ بار دیکھ کر بھی میر ے دل نے کہا نہیں یہ سب کچھ حقیقت ہے۔جبکہ وہ سیون ڈی ہولوگرافک ٹیکنالوجی کی ویڈیوتھی ۔جو بالکل حقیقت کا روپ دھارے دیکھائی دے رہی تھی ۔چوتھی نمائش لندن میں ہوئی ۔اس نمائش میں ایک دیوہیکل مچھلی کو سمندر سے ابھرتے دیکھایا گیا ۔ آپ ان ویڈیوز کو یوٹیوب پر 7D یا holographic video لکھ کر سرچ کر سکتے ہیں ۔آپ اسے میری ٹائم لائن پر بھی دیکھ سکتے ہیں

قارئین ! 1873 میں ٹی وی کی ایجاد ہوئی ۔اس ایجاد نے دنیا کے تمام شعبوں اور کمپنیوں کے رخ موڑ دیے ۔زمانے کے ساتھ ساتھ اس میں جدت آتی گئی ۔ یہ سب سے پہلے یہ تصویری کہانیاں دیکھاتا تھا۔پھر دھندلے معیار کے ساتھ فلم سازی کا کام شروع ہوا ۔اس زمانے میں اسکا قد ڈھول کے برابر ہوتا تھا ۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ چھوٹا اور جدید ہوتا گیا ۔آخر 2013 میں L.G ٹی وی ٹیکنالوجی ساز کمپنی نے دعوی کیا کہ وہ رواں برس ایک ایسا ٹی وی ورجن مارکیٹ کو دینے والے ہیں جس کے بعد شاید اس سے بہتر چیز مارکیٹ میں نہ آسکے ۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے ٹی وی کی آمد کے بعد پوری دنیا کی ٹی وی ساز کمپنیاں دھول ہوجائیں گیں۔آخر انھوں نے 4k ultra HD متعارف کروایا ۔جوکہ عالمی منڈی کی سب سے چہتی پراڈکٹ بن گیا ۔

لیکن جلد ہی ایک امریکی کمپنی نے اس کا توڑ نکال لیا ۔انھوں نے ورچوئل ریئلٹی ڈیوائس متعارف کروا دی ۔یہ ڈیوائس عینک کی طرح ہوتی ہے جو آنکھوں پر لگتے ہی فرد حقیقی دنیا سے بہت دورفلمی دنیا میں لے جاتی ہے ۔بعض اوقات فلمی کردار کے پہاڑیاکسی اونچے جگہ سے گرنے کے باعث دیکھنے والا اندر تک ہل جاتا ہے ۔کیونکہ وہ مکمل طور پر ان کرداروں کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے ۔اس ڈیوائس کے بنانے والی کمپنی نے دعوی کیا کہ اب اس سے بڑھ کر کچھ نہیں بن سکتا ۔لیکن ہولوگرافی ٹیکنالوجی نے اس دعوی کی کمر توڑدی ۔ابھی تک 7D ہولوگرافک ٹیکنالوجی مارکیٹ میں نہیں آئی ۔ کیونکہ اس کے خالق کہتے ہیں ابھی اس کونہایت جدید بنانا ہے ۔اتنا جدید سورج کہ روشنی بھی اسے متاثر نہ کرسکے ۔جب دل چاہے رات برپا کر لیں اور اگر من ہو تو رات کو دن بنا لیں ۔ ان کی ایک کوشش یہ بھی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی محض ایک کمرے یا ہال تک محدود ہونے کی صلاحیت نہ رکھتی ہو۔بلکہ اسے پندرہ سے پچاس کلومیٹر تک کا علاقہ بدلنے کے قابل بنانا ہے ۔یعنی ایک بنجر زمین کو باآسانی باغوں اور نہروں میں بدلا جا سکے اور ایک پر امن علاقے پر ایسی شام مسلط کر دی جا سکے ۔جس کے لوگ خود کو جہنم میں محسوس کریں ۔اس کام میں پہلے تھری ڈی ویڈیو تیار کی جاتی ہے پھر اسے سیون ڈی میں منتقل کیا جاتا ہے ۔اسکے بعد اس ویڈیو کی تصویرکو چھ حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔جس کے بعد چھ لیزر ڈیوائسس زمین اور بلندی پر لگا کر انھیں پلے کیا جاتا ہے ۔یہ تصویر مرکز میں آکر مکمل ہوجاتی ہے ۔اسے دیکھنے والے بالکل زندہ اور حقیقت تسلیم کرنے لگتے ہیں ۔اس ٹیکنالوجی کو مذہبی حثیت سے دیکھا جائے تو یہ دجال کیلئے شاندار تیاری کا عمل لگتا ہے ۔کیونکہ ایسے اوچھے طریقے وہی استعمال کرے گا ۔سائنسدان ہولوگرافی ٹیکنالوجی کو وسیع پیمانے پر استعمال کرنے کیلئے لیزر سیٹلائٹ تیار کرہے جو اوپر سے متعلقہ علاقے پر جنت یا جہنم کا منظر قائم کریں گے۔اسی طرح متعلقہ علاقے پر سورج کی روشنی روک کر زرعی اجناس کی پیداوار اور دیگر مسائل کو جنم دیں گے ۔اسرائیلی دستاویزات کے مطابق اس وسیع مشن کو پروجیکٹ بلیو بیم کہا گیا ہے ۔اسے یہودی کمپنیاں ہی پایہ تکمیل تک پہچانے میں سر گرم ہیں ۔

ایم عمران ادیب

ایم عمران ادیب مصنف ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top